اِسی طرح اَزل کو جاننے کے لیے اَبد، اور اَبد کی پہچان کے لیے اَزل کا علم ضروری ہے، لیکن اَزل اور اَبد الگ الگ وجود میں موجود ہیں۔ زندگی اَزل ہے، تو موت اَبد۔ یہاں زندگی سے مراد ابتدائے حیات ہے اور موت اُس مقام کو کہیں گے جہاں تصوّر مرگ و حیات مَرتا ہے۔ جس مقام کے بعد کوئی موت نہ ہو، وہی اَبد ہے۔
تضادات کو جاننے کے لیے علم الاضداد کا جاننا ضروری ہے۔ یہ وسیع علم ہے۔ نفی اور اثبات، لا اور الٰہ، عزّت اور ذلّت، ظلم اور رحم، ظاہر اور باطن، خارج اور داخل، رُوح اور مادّہ، غم اور خوشی، زندگی اور موت، غرض یہ کہ ہر اِسم اور صفت کے مقابل ایک اور اِسم، ایک اور صفت موجود رہتی ہے، جس سے اُس اِسم اور اُس صفت کی پہچان ممکن ہوتی ہے۔
لامحدود کی پہچان، محدود سے ہے۔ انسان اپنے نفس کی پہچان کرے تو اُسے رب کی پہچان اور اِس کائنات کی پہچان ممکن ہو جاتی ہے۔
اپنی پہچان کے سفر میں تضادات سے آشنائی ہوتی ہے۔ ہنسنا اور رونا، جاگنا اور سونا، پانا اور کھونا، ہونا اور نہ ہونا، ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ تضادات تفسیرِ حیات کے حسین ابواب ہیں۔ اِستقامت ہو تو یہ تضادات ختم ہو جاتے ہیں۔
رنگوں کا تضاد بے رنگی میں ختم ہو جاتا ہے اور الفاظ و آواز کا تضاد سکوت میں قائم نہیں رہ سکتا۔