اِنسان کی زندگی میں جتنے دِن ہوتے ہیں،  اُتنی ہی راتیں ہوتی ہیں۔  یوں اِنسان کی نصف زندگی روشنی میں گزرتی ہے اور نصف اندھیرے میں۔

دِن کے اُجالے اپنے ساتھ اپنے مسائل لاتے ہیں۔ اِنسان پر کسب ِ معاش کی فِکر سورج سے روشنی کے ساتھ ہی نازل ہوتی ہے۔ اِنسان تلاشِ معاش کے سلسلے میں گھر سے نکلتا ہے،  جس طرح پرندے آشیانوں سے نکلتے ہیں۔  دِن کی روشنی حقائق کی روشنی ہے،  تلخ ہے۔  اِنسان کچھ بھی تو نہیں چھپا سکتا۔ اُس کا چہرہ، اُس کے حالات اور اُس کی حالت کا آئینہ بن کر احباب و اَغیار کے رُو برو ہوتا ہے۔  اِنسان کا سہما ہوا خوف زدہ دِل ہرن کی طرح اوٹ اور پناہ تلاش کرتا ہے لیکن سورج کی روشنی اُس کے تعاقب میں ہوتی ہے اور یوں اِنسان بھاگتا ہے،  اپنے سائے سے ڈرتا ہوا۔ اپنے سائے کی تلاش میں کوسوں فاصلے طے کرتا ہے۔ اپنے حاصل کی آرزو میں اپنی محرومیوں کا مسافر دِن کی روشنی میں بے چین رہتا ہے۔

رات آتی ہے،  محنت کے زخموں سے چُور جسموں کو نیند کی مرہم عطا کرنے کے لیے۔  اِنسان کے لیے دھوپ سے تپتے صحرا میں نخلستان کی راحت،  رات کے دَم سے ہے۔  رات اپنے پُراَسرار دامن میں بے پناہ خزانے سمیٹ کر لاتی ہے، جنہیں وہ اہلِ دِل حضرات کی خدمت میں پیش کرتی ہے۔

سونے والوں کو رات لوری دیتی ہے۔  جاگنے والوں کی حُدی خواں ہے۔  رات عجب راز ہے۔  یہ راز سب پر آشکار نہیں ہوتا۔  رات انکشافِ زمان ومکاں کرتی ہے۔  رات کو وقت کےلامحدود فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔  رات کے پاس بڑے طلسمات ہیں۔  یہ کبھی لمحے کو صدیاں بنا دیتی ہے،کبھی صدیوں کو ایک لمحہ۔ رات کے پاس وہ قوّت ہے کہ یہ ازل اور ابد کو بیک وقت ایک نقطے پر اکٹھا کر دیتی ہے۔

راتوں کو جاگنے والے ماضی،  حال اور مستقبل کی تقسیم سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔  غوّاصانِ شب رات کی گہرائیوں سے انمول موتی نکالتے ہیں،  مشاہدات و حقائق کے موتی۔

Pages: 1 2 3 4 5 6