رات کو زمین اور آسمان کے فاصلے ختم ہو جاتے ہیں۔ یہاں وہاں کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ خاموش الفاظ بولتے ہیں۔ رات کو خوش نصیبوں کی آنکھ تر ہوتی ہے اور اُن کا دِل معمور ہوتا ہے۔ اُ ن کے اذہان روشن ہوتے ہیں۔ اُن پر لوح و قلم کے رموز، مخفی رموز آشکار ہوتے ہیں۔ دُنیائے علم و عرفان کے عظیم شاہکار رات کی تخلیق ہیں۔
خوش بختوں کی رات نجات و مناجات کی رات ہے۔ شبِ فراق ہو یا شبِ وصال، بیدار رات اِنسان کے عُروج کا قصہ ہے۔سکوتِ دو جہاں میں اِنسان کی فغاں مکینِ لامکا ں کے حضور پہنچتی ہے اور پھر یہ رات لیلۃ القدر بن کر اِنسان کے مقدّر کو بناتی ہے۔ آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں، افکار نازل ہوتے ہیں۔ کبھی ”مثنوی “ اور کبھی ” سیف الملوک“ تحریر ہوتی ہے۔ شاعر صرف جاگتا ہے، باقی کام رات خود کرتی ہے۔ فقیر بیدارہوتا ہے، فقر خود نازل ہوتا ہے۔
رات کو سجدہ گاہ، جلوہ گاہ بنتی ہے، بگڑی سنور جاتی ہے۔ رات کبھی کبھی ناراض بھی ہو جاتی ہے۔ پھر غضب ڈھاتی ہے۔ ابتلا کی رات اِنسان کے سر پر آسمان گرتا ہے اور وہ کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اِنسان درد میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ کراہتا ہے، کرب و درد میں، تفکرات میں، اندیشوں میں۔ رات بے حِس ہوتی ہے — بے یقین انسان، رحمت سے مایوس اِنسان، ایمان سے عاری اِنسان، رات کی بات نہیں سمجھ سکتا۔ اُس کے لیے صرف دُعا ہے۔
یہ دُعا صاحبانِ نصیب پر فرض ہے۔ صاحبانِ علم و عرفان دُعا ہی تو کر تے ہیں۔ درد سے تو وہ بھی گزرتے ہیں لیکن اُن کو یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اُن کے باطن میں ایمان و اُمّید کے چراغ جلتے ہیں۔ وہ درد کو متاعِ بے بہا سمجھ کر سینے سے لگاتے ہیں اوراپنے محسنوں کو دُعا دیتے ہیں۔
رات اِنسان کو درد کی بھٹی سے ہی تو گزارتی ہے۔ جو اصل ہے کُندن بن جاتا ہے اور نقل بھسم ہو جاتا ہے۔ یقین عرفان بن جاتا ہے اور بے یقینی محرومِ ایمان ہو جاتی ہے اور مایوسی بن کر اپنی نوحہ گر ہو تی ہے۔