اس کائنات میں کوئی وجود ہمیشہ کے لیے ایک جگہ پر موجود نہیں رہ سکتا۔ ہر چیز بدل جاتی ہے۔ ہر لمحہ دوسرے لمحات کو رستہ دے کر رخصت ہو جاتا ہے۔ سانس کی آری ہستی کے سایہ دار درخت کو کاٹتی چلی جاتی ہے اور آخر کار انسان ہرعمل سے بیگانہ ہو کر نامعلوم دنیا کی طرف رخصت ہو جاتا ہے۔ یہ کھیل جاری رہتا ہے۔
کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنا مقام بدلتا ہے۔ حالتیں بدلتی ہیں۔ حالات بدل جاتے ہیں۔ موسم بدل جاتے ہیں۔ ہر شے میں ہمہ وقت تغیّر رونما ہوتا رہتا ہے۔ ہمہ حال تبدیلیوں میں قیام کی خواہش ہی انسانی زندگی کا طرۂ امتیاز ہے۔ انسان جانتا ہے کہ یہاں اِس دنیا میں ٹھہرنا ناممکن ہے۔ قیام کا امکان نہیں۔ اِس سے پہلے بھی ہزارہا قافلے اِس دشت ِبے اماں سے گزرے اور اپنے بعد ویرانیاں چھوڑ گئے۔ انسان جانتا ہے کہ اسے بھی جانا ہے لیکن وہ جانے سے پہلے کوئی کام ایسا کرنا چاہتا ہے جو اُس کے نام سے منسوب رہے۔ وہ مکان بناتا ہے۔ اُس میں روشنیاں اور فانوس لگاتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد خود اندھیروں میں کھو جاتا ہے۔
ہمہ حال نئی شان والے پروردگارِ عالم نے ہر شے میں تغیّرپیدا فرما کر حُسن بخشا ہے۔ سارا جہاں حُسنِ ہزار رنگ کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔ کتابِ فطرت کا ایک ایک ورق رنگ و نُور سے مزیّن ہے۔ زمین خوشبو سے مہکتی ہے۔ کبھی آسمان اپنی گردشوں میں مست نظر آتا ہے۔ ہر طرف جلوے ہی جلوے ہیں۔ رونقیں ہی رونقیں ہیں۔ خالق کی قدرتِ کاملہ کے مظاہر دلفریب اور دلنشیں ہیں۔ پوری کائنات پر منوّر رُوح محیط ہے۔
سورج کو دیکھیں، اپنی آمد سے پہلے ہی جلوہ آرا ہوتا ہے۔ صبحِ کا ذب ہو یا صبحِ صادق، نُور کا پر تَو ہے۔ سورج کی روشنی میں تحریک ہے۔ صبح پہلی کرن سے پھول کِھلنے شروع ہوتے ہیں۔ سورج نکلتا ہے، تو بس زندگی نکلتی ہے۔ چہکار اور مہکار کا دَور شروع ہوتا ہے۔ ہر ذی جان حمد و ثنائے خالقِ کبریا میں مصروف نظر آتا ہے۔ چرند، پرند، انسان، اشیا، دریا، پہاڑ، ہوائیں، فضائیں، سب متحرّک نظر آتے ہیں، منوّر نظر آتے ہیں۔ زندگی اپنا اظہار کرتی ہے۔ انسانی آنکھ محو ِ نظارہ ہوتی ہے اور پورا منظرنامہ حُسن کے لباس میں ملبوس دلکشی کی داستانیں بیان کرتا ہے۔
صبح کی رونقیں دوپہر کے آرام میں سانس لیتی ہیں، اور پھر دوپہر، سہ پہر اور شام، اور پھر سکوتِ شام۔ سب آوازیں خاموش ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ تلاش میں سرگرداں وجود اپنے آشیانوں اور اپنے ٹھکانوں میں واپس آ جاتے ہیں اور اس طرح سورج اپنے جلوے بکھیرتا ہوا رخصت ہو جاتا ہے۔