رات چاند ستاروں کے حسن سے آراستہ ہو کر منظر نامے پر طلوع ہوتی ہے۔ ایک نئی قسم کا جلوہ نظر آتا ہے۔جھلمل جھلمل ستاروں کی محفلیں بپا ہوتی ہیں۔ دل محبّت سے معمور ہوتے ہیں۔ رات کے مسافر اپنی منزلوں کی طرف رواں ہوتے ہیں۔ کاروانِ وجود کسی حالت میں ٹھہرتا نہیں ہے — ہمہ حال حرکت، ہمہ حال گردش — ہر لحظہ نیا پن، ہر لمحہ انوکھی داستان۔ رات کی محفل روح کی محفل ہے۔ یادوں کے دریچے وَا ہوتے ہیں۔ دل کی دنیا آباد ہوتی ہے۔ ستارے چمکتے ہیں اور انسان کے دل و دماغ میں خیالات روشن ہوتے ہیں۔ سورج وجود کی خوراک مہیا کرتا ہے اور رات روح کی خوراک مہیّا کرتی ہے۔ چاندنی راتوں سے وَجد میں آئے ہوئے آہو کلیلیں بھرتے ہیں۔ چکور چاند کی طرف لپکتے ہیں اور لپکتے ہی رہتے ہیں۔ منزلیں دُور ہوں، تب بھی ہمت پست نہیں ہوتی۔ حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ راتوں کوتغیّر جاری رہتا ہے۔ ہوائیں نیند کے تحفے لاتی ہیں اور انسان کی خدمت میں پیش کرتی ہیں۔
اِس کائنات میں کوئی ستارہ، کوئی سیّارہ، ہمہ حال ایک حال پر نہیں رہتا۔ جو خود نہیں بدلتے، اُن کے گرد و نواح بدل جاتے ہیں اور یوں تبدیلی مستقل طاری و جاری رہتی ہے۔
موسم ایک حال میں نہیں رہتے۔ ابھی گرمی تھی، ابھی برسات ہے۔ زمین خشک تھی، اب جل تھل ہے — خشک سالی کا موسم اور پھر سیلاب کے زمانے۔ دریا کبھی چاندی کے ایک تار کی طرح اپنے راستوں سے گزرتے ہیں اور کبھی سمندر بن کر کناروں کو اُڑا لے جاتے ہیں۔ اس کائنات کا مزاج مبدّل ہے۔ تغیّر ہی اصولِ حیات ہے۔ موسموں کو خوئے انقلاب سکھانے والی ذات خود ہی ہمہ رنگ نیرنگ ہے۔ سرد ہوائیں چلتی ہیں تو زندگی غاروں اور پناہ گاہوں میں چھپتی ہے۔ اَولے اور برف باری کے مناظر بڑے دلچسپ ہیں۔ فطرت کبھی نغمات سناتی ہے اورکبھی فطرت ہنگامے بپا کرتی ہے۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ زلزلے آتے ہیں۔ زمین کے اندر مخفی قوّتیں اظہار کرتی ہیں اور زلزلوں کی ہیبت سے جہاں کانپ جاتا ہے۔ قدرت کے کارخانے میں کوئی پرزہ ساکن نہیں۔ سکون اِس کارخانے میں ناممکن ہے۔ ہر شے تیزی سے بدل رہی ہے۔
عروج و زوال کی داستان ہے، یہ زندگی۔ اِس میں کوئی حالت ہمیشہ رہ نہیں سکتی۔ کبھی خوبی اورعمل کے بغیر عزّت اور عروج ملتے ہیں، کبھی خامی اور بد اعمالی کے بغیر ہی ذلّت اور زوال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہ عجیب حالت ہے۔ زندگی کے مزاج میں قائم رہنا ممکن نہیں۔ اس میں کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا ہے۔
انسان ہنستا ہے، خوش ہوتا ہے، وہ اپنی زندگی پر ناز کرتا ہے اور اسی دوران میں کسی نامعلوم وجہ سے اُس کی ہنسی آنسوؤں میں بدل جاتی ہے۔ خوشی رخصت ہو کر غم دے جاتی ہے۔ انسان جس حالت پر فخر کرتا ہے، اسی حالت پر افسوس کرنے لگتا ہے۔ مبارک دینے والے تعزیت کرنے لگتے ہیں۔