یہ تغیّرات ہیں۔  ہر آدمی کے سر پہ کتبہ گڑا ہے۔  کون کس سے تعزیت کرے۔  اِس دنیا میں ٹھہرنے کا مقام ہی نہیں —  مسلسل تبدیلی   ،مستقل تغیّر —  ہمہ حال،  نیا حال۔  اس میں کوئی قرار نہیں،  کوئی اماں نہیں۔  انسان کرسی پر بیٹھا بیٹھا بوڑھا ہو جاتا ہے۔  عمل نہ کرے،  تو بھی عمل جاری رہتا ہے۔

 یہ بچپن کل کی بات تھی،  گزر گیا۔  کھیل کود کے زمانے گزر گئے۔  کیوں گزر گئے! بس یہی قانون ہے۔  ہر حال گزر جاتا ہے۔  ہر جلوہ رخصت ہو جاتا ہے۔  ہر لحظہ بدل جاتا ہے۔  بچپن گیا،  جوانی آئی۔  آئی کہ نہ آئی،  بہرحال چلی گئی۔  کیسے؟ کیوں؟ بس ایسے ہی!! آنے والی شے،  جاتی ہے۔  جوانی اور بڑھاپے میں فرق نہیں رہتا۔مستقبل کا خیال رہے تو انسان جوان ہے اور اگر صرف ماضی کی یاد ہی باقی ہو تو انسان بوڑھا ہے۔  بوڑھے انسان کے پاس مستقبل کے منصوبے نہیں ہوتے۔  صرف ماضی کی حسرتیں ہوتی ہیں۔

اِنسان سفر کا آغاز کرتا ہے۔  اُس کے پاس کتنے ہی راستے ہوتے ہیں،  جو راستہ چاہے اختیار کر لے۔  وہ آہستہ آہستہ راستے ترک کرتا جاتا ہے اور پھر ایک صبح اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ گیا ہے۔  اب اُس کی زندگی لامحدود امکانات سے محدود ممکن میں داخل ہوتی ہے۔  ہر انسان کے ساتھ یہ ہوتا ہے۔  کشادہ سڑکیں کم ہوتے ہوتے تنگ گلی تک آ جاتی ہیں اور یہ تنگ گلی ایسی ہے کہ انسان مڑ بھی نہیں سکتا،  واپس نہیں جا سکتا۔  بس آزاد انسان، مجبور انسان بن کے رہ جاتا ہے۔

پھیلے ہوئے خیالات، پھیلے ہوئے پروگرام،  پھیلے ہوئے آسمان،  سب سمٹ جاتے ہیں۔  ہر حال بدل جاتا ہے۔  ہر لمحہ نیا لمحہ ہے اور آخرکار قدرتوں والا انسان بے بسی کو تسلیم کر لیتا ہے اورموسم بدلتے بدلتے آخری موسم آ جاتا ہے، جس کے بعد کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔  یہ آخری باب ہے،  زندگی کا — !!

یہ کائنات ہر حال میں بدلتی ہے۔  بس ایک چکّی ہے کہ چل رہی ہے۔  پیس رہی ہے زندگی کو اور جنم دے رہی ہے،  نئی زندگی کو!  رنگ بنتے ہیں اور رنگ مٹتے ہیں۔  ایک رنگ جو ہمیشہ قائم رہتا ہے،  وہ ہے اللہ کا رنگ،  اُس کا جلوہ۔  ہر شے تبدیل ہوتے ہوئے مٹتی چلی جاتی ہے،  لیکن اللہ کا رنگ،  شان والا اللہ، نئی تابانیوں کے ساتھ قائم رہتا ہے۔  کائنات بدلتی ہے اور کائنات کو تبدیلیاں عطا کرنے والا قائم و دائم ہے —  جوں کا توں —  اس میں نہ کمی ہوتی ہے،  نہ اضافہ۔  وہ اپنے جلووں میں باقی رہتا ہے۔  اس کے علاوہ ہر تبدیلی،  ہر تغیّر پیغامِ فنا ہے،  ہر رنگ عارضی ہے۔  ہر اختیار بے بسی ہے۔  ہر حاصل محرومی ہے۔  ہر ہونا،  نہ ہونا ہے۔  ہم سے کوئی ہماری عمر پوچھے تو ہم گزری ہوئی عمر بتا دیتے ہیں۔  جو اپنے پاس نہیں ہے،  اس کو شمار کرتے رہتے ہیں۔  جو خرچ ہو گیا،  اسے گنتے رہتے ہیں۔  حالانکہ ہماری اصل عمر تو وہ ہے جو باقی ہے۔  انسان سمجھتا نہیں۔  تبدیلیوں کے عارضے میں مبتلا انسان،انسان کی زندگی اور گرد و پیش کی کائنات سب عارضی اور فانی ہے۔  یہ قافلہ ٹھہر نہیں سکتا۔  ہر ذرّہ تڑپ رہا ہے اور مر رہا ہے۔  تغیّر کو ضرور ثبات ہے لیکن یہ ثبات بھی متغیرّ ہے۔  اصل ثبات اس کے لیے ہے جو ذات ذوالجلال والاکرا     م ہے،  باقی سب وہم و خیال کی بدلتی ہوئی محفل ہے۔ باقی سب آرائش،  جمالِ کائنات کا حُسن ہے،  لیکن یہی کائنات کا راز ہے اور یہ راز یوں آشکار ہوتا ہے کہ انسان سمجھ لیتا ہے کہ:

Pages: 1 2 3 4