کامیابی ایک خوبصورت تتلی ہے جس کے تعاقب میں اِنسان بہت دُور نکل جاتا ہے، اپنوں سے دُور، اپنی حقیقت سے دُور، اپنی بساط سے باہر، اپنے جامے سے نکل جاتا ہے۔ اکثر اوقات وہ کامیابی کی سرمستی میں اپنی عاقبت برباد کر دیتا ہے۔
کامیابی ایک کِھلونا ہے، جس کے حصول کا عمل اِنسان سے منزل کا شعور چھین لیتا ہے۔ اِس میں کوئی اُلجھاؤ نہیں، کوئی ابہام نہیں۔ ہم ایک خواہش کے حصول کو کامیابی کہتے ہیں اور اُس کامیابی کے ساتھ ہی دوسری خواہشات دَم توڑ جاتی ہیں، اور یہ کامیاب خواہش اکثر و بیشتر خواہش ِ نفس کے سِوا کچھ اور نہیں ہوتی۔
ایک محنت کرنے والا اِنسان کامیابی کی خاطر محنت کرتا ہے۔ دُنیا میں مختلف قسم کی محنتیں ہیں، اِس لیے مختلف قسم کی کامیابیاں ہیں۔ بُرے مقاصد کے لیے محنت اگر کامیاب بھی ہو جائے، تو بھی ناکام ہے۔ اِس کے بر عکس اچھے مقصد کی محنت اگر ناکام رہے، تو بھی کامیاب ہے۔ کامیابی کا حصول اتنااہم نہیں، جتنا مقصد کا انتخاب ہے۔
چیونٹی صبح سے شام تک محنت کرتی ہے اور اُس کی کامیابی یہ ہے کہ خاکِ را ہ سے رزق مل جائے۔ گِدھ کی کامیابی یہ ہے کہ اس کی پرواز مُردار کا راستہ دکھائے۔ مکڑی جالا بُنتی ہے، کتنا خوب صورت، ایک ماہر ریاضی دان اور انجینئرکی طرح۔ اُس کا مقصد کامیاب ہو جاتا ہے۔ اُس کا مقصد جالا نہیں، مکھی ہے۔ وہ مکھی پکڑنے کے لیے خوب صُورت جالا بُنتی ہے اور یہ اُس کی کامیابی ہے۔
کامیابی کے گلیمر کے پیچھے اِنسان کی اصل خواہش چھپی ہوتی ہے۔ اِس خواہش کا بغور مطالعہ کیا جائے، تو کامیابی کا اصل مفہوم سمجھ میں آ سکتا ہے۔