کامیابی کی تعریف کرنا مشکل ہے۔  آج کل کامیابی ایک مقابلہ ہے۔ اپنے ماحول میں اپنے سماجی معیار کے مطابق سبقت لے جانے کو کامیابی کہتے ہیں۔  کامیاب اِنسان اُسے کہتے ہیں،  جو اپنے گردوپیش کے اِنسانوں میں نمایاں ہو،  ممتاز ہو۔  سبقت لے جانے والا معزز کہلاتا ہے۔ کامیابی کا مدعا سبقت لے جانا ہے،  شہرت حاصل کرنا ہے۔

اگر سماج کا اپنا کوئی اخلاقی معیار نہ ہو تو   کامیابی ایک خطرہ ہے۔ جھوٹوں میں شہرت حاصل کرنا بدنام ہونے کے مترادف ہے۔ اگر ماحول گندہ ہو تو کامیابی کی تمنّا اِنسان کے لیے ایک خطرہ ہے۔

کامیابی کا سفر خود غرضی کا سفر ہے۔ یہ خطرے کا سفر ہے۔ خود غرضی نہ ہو  تو اِنسان کیسے کامیاب ہو۔ دولت جمع کرنے والے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں اگر وہ بے حِس نہ ہوں۔ دولت تقسیم کرنے والا کبھی دولت جمع نہیں کرتا۔  کامیاب مہمان،  کامیاب میزبان نہیں بن سکتا۔  محبّت کامیاب ہو تو شادی کامیاب نہیں ہوتی۔ بنک کا کام کرنے والا ٹورسٹ نہیں بن سکتا۔  کامیاب انجینئر،  کامیاب ڈاکٹر اور کامیاب وکیل کی زندگیوں میں بڑا فرق ہے۔  ہر کامیاب آدمی دوسرے کو ناکام سمجھتا ہے اور یہی ناکامی کی دلیل ہے۔

دُنیا میں موجود آدھا علم صرف نصیحت کا علم ہے، یعنی دوسروں کو ناکامی سے بچانے کا علم،  اور علم دینے والا علم کے حوالے سے ہی اپنے آپ کو کامیاب سمجھتا ہے۔  اُس کی بات سُننے والے اُسے دیکھتے ہیں اور اُس پر اتنا ہی تبصرہ کرتے ہیں کہ بیچارے علم والے لوگ ہیں، اِن کا سرمایہ الفاظ و معانی کا سرمایہ ہے اور بس۔

کامیاب اِنسانوں نے ہی دُنیا میں جھگڑا فساد قائم کر رکھا ہے۔  ایک اِنسان   کامیاب کہانی نویس یا       کامیاب داستان گو، یا افسانہ نگار ہو،  تو اپنے آپ کو ہر شعبۂ حیات میں کامیاب سمجھتا ہے۔   وہ فرض کر لیتا ہے کہ اب وہ ڈراما،  تنقید،  معاشیات،  سیاسیات،  شاعری،  الٰہیات،  غرض یہ کہ متفرقات پر قلم اُٹھانے کا حق رکھتا ہے۔  وہ جلسوں کی صدارتیں کرتاہے۔  جلوسوں کی قیادت کرتا ہے۔حکومتوں کے حق میں یا اُن کے خلاف قراردادیں پاس کرتا ہے، حالانکہ اُس کی کامیابی صرف کہانی یا افسانہ کی کامیابی ہے۔

Pages: 1 2 3 4