بس یہی تو مشکل ہے کہ بھول جانا اِنسان کے بس میں نہیں۔ جو حادثہ ایک دفعہ گزر جائے، وہ یاد بن کے بار بار گزرتا ہے۔ بھولنے کی کوشش ہی اُسے زِندہ رکھتی ہے۔ اِنسان ظالم کو معاف کر سکتا ہے، لیکن اُس کے ظلم کو بھول نہیں سکتا۔ بھول جانا، اِنسان کے اِختیار میں نہیں۔
اِنسان کیسے بھول سکتا ہے کہ اُس نے جو چہرے کبھی شوق سے دیکھے تھے، اب وہ نظر نہیں آتے۔ جو کبھی سوچا تھا، کبھی چاہا تھا، اب وہ ویسا نہیں۔
موسم گزر جاتے ہیں، لیکن یاد نہیں گزرتی۔ مرحوم زمانوں کی یاد مرحوم نہیں ہوتی۔ وقت گزر جاتا ہے، ہمیشہ گزرتا رہا، لیکن گزرتے گزرتے اِنسان کے چہرے پر جھریاں چھوڑ جاتا ہے۔ ماضی کی یاد اِنسان کے وجود کو ڈھانپ لیتی ہے، لباس کی طرح نہیں، جلد کی طرح، کھال کی طرح۔ اِنسان یاد کے پیَرہن میں لِپٹ جاتا ہے اور پھر کچھ بھولنے کا خیال بھی بھول جاتا ہے۔
پرانے چہرے، نئے چہروں میں نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پُرانے غم، نئے غم میں شامل نظر آتے ہیں۔ پُرانی یاد، نئی زِندگی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ تہہ دَر تہہ یاد اِنسان کے اندر ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ آئینہ گرد آلود ہوجائے تو گرد کے ذرّات میں کئی آئینے نمودار ہو جاتے ہیں اور پھر یاد سے نجات کی کوشش، دَلدل سے نجات کی کوشش کی طرح رائیگاں ہو جاتی ہے۔
اِنسان کے پاس اپنی لوحِ محفوظ ہے، قوتِ حافظہ ہے — اَنمول خزانہ، آنسوؤں اور مسکراہٹوں کا خزینہ۔ اِنسان اِس سے نجات نہیں پا سکتا۔ جو کبھی تھا، اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہی زِندگی کا عروج ہے اور یہی اِس کا زوال۔