اِنسان کی یادیں — اُس کے تجربات،  اُس کے مشاہدات اور اُس کی واردات کے علاوہ بھی ہیں۔  اِنسان کے علم نے اُسے اُن یادوں میں شریک کیا ہے جو اُس کی اپنی نہیں۔ جن واقعات میں وہ کبھی شامل نہیں تھا،  وہ اپنے آپ کو شامل سمجھتا ہے۔  جو کچھ اُس نے دیکھا تک نہیں،  وہ اُس کی گواہی دیتا ہے،  آنسوؤں سے تحریر کرتا ہے،  رو  رو کے بیان کرتا ہے، جیسے وہ اُس کی اپنی ذاتی یاد ہو۔

کربلا میرا تجربہ نہیں،  میری واردات نہیں،  میرا مشاہدہ نہیں،  لیکن میری یاد ہے۔  میرا اِحساس ہے،  جو کربلا سے گزرا ہے۔  وہ بیان جو میرے اِحساس میں اُتر گیا، میرا تجربہ بن گیا،  میری یاد بن گیا۔  اِمامِ عالی مقامؑ کی کربلا،  میری کربلا ہے۔ ہر کربلا،  ایک ہی کربلا ہے۔  صداقت کا قافلہ جس مرحلے سے گزرا،  ہمیشہ اسی مرحلے سے گزرتا رہا ہے۔  یہی اصلِ کربلا ہے کہ کربلا ابھی ختم نہیں ہو رہی۔  میرے اللہ! کیا میری کربلا دائمی ہے؟

کربلا ہمیشہ دائمی ہوتی ہے۔ چراغِ صداقت آندھیوں اور اندھیروں کی یلغار میں ہمیشہ جلتا ہے۔  حق کا چراغ کبھی نہیں بجھتا — مسلسل کرب،  مستقل خلش،  دائمی حقیقت —  روشن چراغ!

کربلا محض کسی واقعہ کا نام نہیں،  بلکہ کربلا ایک دائمی اِستعارہ ہے —  ایک لازوال غم،  ایک ابدی حقیقت،  ایک اٹل فیصلہ،  ایک خاموش طوفان،  ایک ایسا سکوت،  جس کے دامن میں حق کی آواز ہے —  ایک ایسا موڑ،  جس کے آگے کوئی راستہ نہیں،  ایک آخری اعلان۔  کربلا زِندہ ہے، میرے ساتھ ساتھ،  میرے سامنے، میری یاد میں۔  بھُول جاؤں ؟ مگر کیسے؟

مَیں کیسے بھول جاؤں کہ مَیں بہت ہی قدیم مخلوق ہُوں۔  میری وجہ سے مقرّب،  معتوب ہوا۔  جس نے مجھے سجدہ کیا،  اُسے کیسے بھول جاؤں۔ جس نے سجدے سے اِنکار کیا،  اُسے کیسے بھلا دوں۔ مَیں نے جس کا سجدہ کیا،  اُسے کیسے فراموش کروں۔  مَیں ، میرے ساجدین اور منکرِ سجدہ،  سب فانی ہیں۔  صرف میرا مسجود ہی باقی ہے —  حقیقت، ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی حقیقت،  جسے کوئی نہیں بھول سکتا —  نہ ماننے والوں کو بھی یاد رہتا ہے۔  انہیں یاد رکھتا ہے۔  اُسے بھولنا مشکل ہی نہیں،  ناممکن ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6