میرے مالک! مجھے آزادی دے۔  یادوں کے جزیروں،  خوابوں اور سرابوں کے جزیروں سے نکال مجھے!مجھے اِذنِ گویائی دے، مجھے سکوت کے برفانی غاروں میں منجمد نہ کر،  مَیں بے کیف یکسانیت سے گھبرا گیا ہوں۔ مجھے اپنی نئی شان دِکھا، نیا جلوہ عطاکر، مجھے حال کا علم دے،  حال کا عمل دے۔ مَیں دریا ہوں،  مجھے تالاب نہ بنا۔  مَیں تیرا مسافر ہُوں،  مجھے مقامات کے جمود سے نکال۔  ذرّے کو جمالِ آفتاب دے، قطرے کو وسعت ِ بَحر عطا کر۔  میرے حال کو ذوقِ علم دے،  مستی ٔ کردارعطا کر۔  میرے ماضی کو ماضی ہی رہنے دے۔  میرے مولا!مَیں توحید پرست ہُوں، مَیں یادوں کا بُت توڑرہا ہُوں،  مَیں یادوں کی کشتیاں اور کشتیوں کی یاد جلا رہا ہُوں۔  میرا ہر لمحہ اُندلس کا ساحل ہے۔  مَیں زندہ ہُوں،  ماضی سے آزاد۔  حال میرا حق ہے۔  مجھے میرا حق دے میرے آقا!

[1] قدیم کہانیوں کا ایک دومالائی کردار جو بالوں کے بڑھ جانے پر زیادہ طاقتور اور خطرناک ہو جاتا تھا۔ جنگ و جدل کا بازار گرم ہونے کے لیے بولا جاتا ہے، یعنی خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6