ایک محدود اور مختصر زندگی میں اِنسان کس کس کی لاج نبھائے۔ سب واجب الاحترام ہیں۔ سب لائقِ تعظیم ہیں۔سب صاحب ِارشاد ہیں۔ سب قابلِ تقلید ہیں،لیکن مجبوری تو یہ ہے کہ عرصۂ حیات ہی قلیل ہے۔ اِس میں اِتنی تسلیمات اور اِتنی اطاعتوں کا پورا ہونا ممکن ہی نہیں۔ ہم پر کثرت ِقائدین کا خوفناک تسلّط ہے۔ کثیر المقصدیت کا شدید دباؤ ہے۔ ہم پر اعصاب شکنی کی وبا نازل ہو چکی ہے۔ مجبوریوں کے حِصار میں جکڑے ہوئے اِنسان پراطاعتوں کی یلغار ہے۔ اِنسان جائے تو کہاں جائے!

 اللہ کے احکامات ہی لیجیے۔ اللہ کے احکام تو بس اللہ کے احکام ہیں۔اِرشادات ِباری تعالیٰ ایک زندگی کے لیے بس کافی ہیں۔اَوامرو نواہی کا سلسلہ،سلسلہ ہائے روزو شب سے زیادہ ہے اور زندگی ہے کہ گردشِ روزگار کی چکّی میں ہے۔

                آج کے دَور میں ایک اِنسان بے شمار طاقتوں کے سامنے جوابدہ ہے۔ وہ کرے توکیا کرے!  اپنی اِصلاح کی طرف توجہ کرے،اپنے باطن کی سیاہیوں کو دُور کرے،اپنے پیٹ کی آگ کو بجھائے،اپنی پیشانی کو سجدوں سے سرفراز کرے،اپنی راتوں کو قیام و رکوع و سجود کی دولت سے مالا مال کرے— اگر کسی طریقے سے ایسا کر ہی لے تو اُسے رمُوزِ مملکت سے آشنائی کیسے ہو۔ ”درویش “ سر براہ  بالعموم مخلوق کو خالق کے حوالے کر کے اپنی عاقبت کو روشن کرتے رہتے ہیں۔ ”اللہ والے“ اکثر مخلوق سے ایسے بے نیاز سے ہو جاتے ہیں جیسے خدا نہ کرے وہ مخلوق کے خالق ہوں۔ بے نیازی خالق ہی کو زیب دیتی ہے کیونکہ وہ کسی کے آگے جوابدہ نہیں۔ سر براہ بے نیاز ہو جائیں تو اُنہیں غافل سربراہ کہا جاتا ہے اور غافل سُلطان رعایا پر ایک آزمائش کی گھڑی ہوتا ہے۔

                مشکل تو یہ ہے کہ خدا کو راضی کرنا الگ بات ہے اور مخلوق کو راضی کرنا اور شے ہے۔ دونوں کو بیک وقت راضی رکھنا بہت مشکل ہے۔ جب تک حالات یکساں نہ ہوں،تسلیم یکساں نہیں ہو سکتی۔ تسلیم یکساں نہ ہو تو سلوک یکساں نہ ہو گا اور سلوک یکساں نہ ہو  تو سب کا راضی ہونا     ناممکن ہے۔نیک سربراہوں کا پریشان ہونا فطری بات ہے۔ اللہ کے احکام کی اطاعت میں پورا اُترنے کے لیے پوری زندگی بھی کافی نہیں۔

                اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اللہ کے حبیبؐ کی اطاعت بھی لازمی ہے۔ آپؐ کا ہر عمل سُنّت ہے اور اُس کی پیروی لازم ہے۔ ہم آپؐ کے اقوال و احادیث یاد کر کے اطاعت کا فرض ادا کرتے ہیں۔ اور آپؐ کا عمل— اگر ہم آپؐ کے اعمال کی اطاعت کریں تو کوئی اِنسان پیوند والے لباس سے زیادہ بہتر لباس زیب ِتن نہ کرے۔ آپؐ سلطان السّلاطین ہیں اور آپؐ کی زندگی معمولی اِنسان سے بھی زیادہ معمولی۔ اللہ اور اللہ کے فرشتے آپؐ ر دُرود بھیجتے ہیں اور آپؐ فاقے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ آپؐ نے تمام زندگی کسی اِنسان سے ذاتی اِنتقام نہیں لیا۔

Pages: 1 2 3