ہم پر قائداعظمؒ کے اِرشادات کی تسلیم کا حق ادا کرنے کا فریضہ عائد ہوتا ہے۔ قائداعظمؒ کا ہر قول ہمارے لیے قولِ سدید ہے۔ قائداعظمؒ کی زندگی بھی ہمارے لیے ایک عملی نمونہ ہے۔ اُس کا اِسلامی تشخص بھی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ جتنا اِسلامی عمل قائداعظمؒ اور اقبالؒ کے پاس تھا،بس اتنا ہی اِسلامی عمل ہمیں منظور ہے،لیکن ہمارے عُلماء اتنے عمل سے راضی نہیں ہوتے۔

                سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ایک زندگی میں ہم کس کس کی زندگی کو نمونہ مانیں اور ایک دماغ سے کس کس کی بات کو قولِ فیصل مانیں، اور ایک دِل سے کس کس سے محبّت کریں۔ ہمارے لیے تسلیم کا بار،بارِگراں ہے۔

                اگر ہم اللہ کے محبوبؐ کی اطاعت ہی اپنے لیے فرض سمجھ لیں تو  کسی اور کا کچھ بھی فرمایا ہوا ہمارے لیے قابلِ تقلید کیوں ہو—ہوا کرے کوئی،جو بھی ہو،اِبنِ مریم ؑہی سہی۔ ہم ٹھہرے غلامانِ رسولﷺ۔ ہم پر کوئی اور اطاعت مسلّط ہو،تو کیوں ہو؟  ہمارا یہ سوال ہے مفکرین ِ اِسلام کی خدمت میں—!!

Pages: 1 2 3