ہم آپؐ کی اطاعت کو جزوِ ایمان سمجھتے ہیں اور ہم آپؐ کی اطاعت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ ہماری مختصر زندگی میں آپؐ کی سیرت ِطیّبہ کا علم حاصل کرنا بھی آسان نہیں۔ آپؐ کی احادیث ِ مبارکہ کا علم حاصل کرنا ہمارا ایمان ہے،لیکن ہمارے لیے آسان نہیں۔ ہمیں اور بھی غم ہیں۔ ہم تسلیم کا بار کیسے اُٹھائیں گے۔
اگر اللہ اور اللہ کے حبیبؐ کی اطاعت تک بات ہوتی تو خیریت تھی— ہمارے لیے اور بھی فرائضِ تسلیم ہیں۔ قرآن کا علم،قرآن فہمی،قرآن دانی،جبکہ ہم عربی زبان سے اِتنے آشنا بھی نہیں۔ مختصر زندگی میں قرآنِ کریم کا علم حاصل کرنا سب کے بس کی بات نہیں۔ اپنی زندگی کو منشائے قرآن کے مطابق بسر کرنا فرض ہے،سعادت ہے،لیکن ”ایں سعادت بزورِ بازونیست“
ہماری زندگی— اگر اِسے ساٹھ سال ہی مان لیا جائے تو اِس زندگی میں بیس سال سے زیادہ نیند کا عالم ہے۔ اِس زندگی میں سے کچھ سال بِک جاتے ہیں۔ ہم زندگی بیچ کر زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ زندگی کا پریشر،بس پریشر کُکر ہی ہے۔ اِنسان پِستا جا رہا ہے۔ ہم لوگ پُوری محنت کرنے کے بعد بھی زندگی کی ضروریات پُوری کر سکنے کے قابل نہیں ہوتے۔ ضرورت کے پاؤں حاصل کی چادر سے باہر ہی رہتے ہیں۔
ہم لوگ ملازمتوں سے ریٹائر ہو کر اُنہی مصیبتوں میں مبتلا ہوتے ہیں جن کے علاج کے لیے ملازمت کی تھی، اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پھر کسی ملازمت کی تلاش ہوتی ہے۔ پھر کسی کرائے کے مکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے۔ حالات کاحکم نافذ رہتا ہے اور ہم اطاعت میں مصروف ہوتے ہیں۔ کس کس کا حکم مانا جائے،ضرورت کا حکم، بیماریوں کا حکم،سماج کا حکم اور پھر مذہب کا حکم،اُس پرمُستزاد حکومت کے اَحکام!
بات یہاں تک ختم ہو جاتی تو گزرممکن ہونے کی صورت رہ جاتی—ہم پر اور بھی اطاعتیں واجب الادا ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے اِرشادات ہمارے لیے مینارۂ نُور ہیں۔ ہم جان پر کھیل کر بھی اُن کی اطاعت کریں گے۔ آئمہ کرام کی اطاعت، فقہا کی اطاعت، اور پھر اولیائے کرام و علمائے حق کے ارشادات ہمارے لیے جادۂ حق کے رَوشن سنگِ میل ہیں۔ ہم اطاعت پر مجبور ہیں اور اِس مجبوری پر مسرور ہیں۔ اِتنی مجبوریوں میں اور بھی آوازیں شامل ہو جاتی ہیں۔ اِقبالؒ کے اِرشادات،کبھی اپنے من میں ڈوب جانے کا حکم،کبھی زمان ومکاں توڑ کر نکل جانے کا حکم! اقبالؒ کی اطاعت ہم فرزند ِاقبالؒ سے زیادہ تو نہیں کر سکتے۔ الحمدُللہ! بچت کی راہ ابھی باقی ہے، ورنہ اقبالؒ آشنائی کے فرض سے کوتاہی کے اِحساس سے شرمندگی میں ڈوب کر مر جانے کا مقام پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ ہمیں اقبالؒ سے محبّت ہے، ضرور ہے،لیکن اِتنی محبّت تو ممکن ہی نہیں جتنی اولاد کو باپ سے ہو سکتی ہے۔ ہم عظیم اِنسان کے نام لیوا ہیں۔ اُس کے وارث تو نہیں۔ تسلیم کا بوجھ اتنا اُٹھائیں گے ،جتنا ہمارے حِصّہ میں آیا!