زندگی، ترتیب    بلکہ حُسنِ ترتیب کا   نام ہے —   لیکن کبھی کبھی یہ ترتیب اپنے آپ سے باہر ہو جاتی ہے،جس طرح کناروں کے اندر بہنے والا خاموش دریا کبھینہ کبھی اپنے آپ سے باہر ہو جاتا ہے اور پھر تمام زندگی کو بے ترتیب کر دیتا ہے۔

بے ترتیب ہونا عناصر کے پریشان ہونے کا ایک مظاہرہ ہوتا ہے، ایک   وارننگ ہوتی ہے کہ محفلِ اَحباب ہمیشہ ترتیب میں قائم نہیں رہتی ہے۔ حلقۂ دشمناں بھی ترتیب سے باہر ہو جاتا ہے۔ انسان بیٹھے بیٹھے اپنی نگاہوں میں بدل سا جاتا ہے۔ کبھی جن باتوں پر افسوس ہوتا تھا، اب اُن پر افسوس نہیں ہوتا، انسان جان چکا ہوتا ہے کہ حُسنِ ترتیب عارضی ہے۔ بندشیں ٹوٹ جاتی ہیں، تسبیح کے دانے بکھر جاتے ہیں اور انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ ضبط،بے ضبط ہو گیا —  احتیاط،بے احتیاط ہو گئی —  شیرازۂ حالات اور  شیرازۂ         خیالات منتشر ہو گیا۔

انسان چُنتاہے، گرے ہوئے موتی، اور خیال  کی تسبیح مرتب کرنے کی کوشش کرتا ہے  —  لیکن اب کہاں! بے ترتیبی انسان کو گرفت میں لے لیتی ہے اور وہ روتے روتے ہنس پڑتا ہے اور ہنستے ہنستے رو پڑتا ہے۔ وہ   مانوس اور مرغوب مقامات، افراد اور کیفیات سے گریزاں ہو جاتاہے۔

جب خیال کی بندش ٹوٹ جائے تو عمل کی ترتیب بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ کبھی باقاعدگی کو کامیابی سمجھا  جاتا   ہے اور کبھی بے قاعدگی کو پسند کیا جانے لگتا ہے۔

جب خیال بے ترتیب اورمنتشر ہو جائے تو اظہار،بیان اور تحریر میں ربط ختم ہو جاتا ہے۔ کسی بات کا کوئی سِرا،  کسی  سِرے سے نہیں ملتا۔ بندشیں اور کڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور جن  اینٹوں سے خوبصورت مکان بنائے گئے،وہ پھر ربط سے بے ربط ہو کر ملبے کا ڈھیر ہو جاتی ہیں۔ واضح، غیر واضح ہو جاتا ہے۔ اِسی کیفیت میں، مَیں نے چاہا  کہ مضمون لکھا جائے، لیکن پھر مَیں نے ہی چاہا کہ مضمون نہ لکھا جائے۔ بس،بے ترتیب باتیں کی جائیں۔

غور کر  رہا  تھا کہ ہماری عبادتیں، ہماری ریاضتیں اور ہماری دُعائیں اتنی بااثر نہیں ہوتیں جتنی ہم سے پہلے لوگوں کی ہوتی تھیں۔ گزشتہ زمانوں کے لوگوں کے حالات اتنے خوشگوار نہیں تھے جتنے آج کل ہیں۔ آج   کا ایک معمولی سا کارخانہ دار، ایک چھوٹا سا سرمایہ دار بھی اپنے پاس اتنی دولت رکھتا ہے کہ شاید کسی مغل بادشاہ کے تصور میں بھی نہ  ہو۔ اُن لوگوں کی زندگی خوشگوارتھی لیکن اُن کے پاس ایئر کنڈیشنرز نہیں تھے،ٹیلی فون نہیں تھے،اُن کے پاس سفر کے لیے گاڑیاں، جہاز اور ہیلی کاپٹر نہیں تھے۔ اُن کی سڑکیں بس نام کی سڑکیں تھیں۔ وہ سفر کیا کرتے تھے، گھوڑا گاڑی میں اور  ہاتھی کی پشت پر۔ وہ لوگ گھوڑے دوڑاتے تھے اور خوش رہتے تھے۔ آج ایک عام آدمی اتنی آسائش میں رہتا ہے، اِتنے آرام میں رہتا ہے، اس کو ہر طرح کی سہولتیں میسّر ہیں لیکن دل بجھا ہوا ہے —  شاید زندگی کی بے ترتیبی میں گھِر چکا ہے۔ کثرتِ مقاصد نے آج کے انسان کو جکڑ کے رکھ دیا ہے۔

Pages: 1 2 3