ہر چیز نقلی اور سطحی ہوتی جا رہی ہے۔ کسی زمانے میں کہیں سے درد کی فریاد اُٹھتی تو سارے زمانے میں اِحساس کی لہر دوڑجاتی۔ آج لوگ گھر سے بے گھر ہو گئے،پانی کی نذر ہو گئے، لیکن عیاشیوں کی رفتار میں فرق نہ آیا۔ شاید ہم ترتیب کی سب حدیں روندنا چاہ رہے ہیں۔
کل تک بیٹیوں کی رخصتی ایک دَرد کا سماں تھا۔ ماں، بیٹی جب ملتیں توکہتے ہیں کہ آسمان کے کنگرے ہل جاتے، لیکن آج کسی قسم کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ دُلھن   رخصتی کے وقت رو نہیں سکتی۔ اُسے پتہ ہے کہ رونے سے اُس کا سینکڑوں روپے کا میک اپ خراب ہو جائے گا۔ ایک نقلی چہرہ اصلی غم پر چڑھا دیا جاتا ہے اور کیفیت کی ترتیب بے ترتیب کرکے رکھ دی جاتی ہے — موجودہ دَور شاید کیفیات شکن ہے۔ خلوص، وفا اور استقامت،یارانے،دشمنیاں سب بے ترتیب ہو گئی ہیں۔ مسجدیں بڑھتی جا رہی ہیں اور نمازی گھٹتے جا رہے ہیں۔ مسجدوں کے گنبد اور مینار بھی اپنے قدیم اور پُرخلوص   انداز سے ہٹتے جا رہے ہیں۔

لاؤڈ سپیکروں کا شور ہے۔ تبلیغ    کا   زور ہے۔ مسلمان، مسلمانوں کو مسلمان ہونے کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ جس کی طبیعت چاہے، اُٹھ کر کھڑا ہو جائے اور رٹی رٹائی ایک تقریر دے مارے۔ بے بسی ہے۔ وقت ِ قیام بھی سجدے میں گزارا جاتا ہے۔ زندگی کسی رُخ پر جا رہی ہے اور تبلیغ کسی اور رُخ پر۔ ہم لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضورِ اکرمؐ کی زندگی سادہ تھی۔ آپؐ  نے کھجور کی چٹائی کا بستر بنایا ہوا تھا۔ آپؐ  کے لباسِ مبارک میں پیوند تھے۔ آپؐ سب سے زیادہ معزز انسان بنائے گئے اور آپؐ  کے ماننے والے، آپؐ  کی راہ پر چلنے کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں، جبکہ ہماری زندگی اُس زندگی سے یکسر مختلف ہے۔

حضورِ اکرمؐ نے شادی کی تقریبات کو سادہ ترین رکھنے کا حکم فرمایا۔آج حضورؐ  کے ماننے والے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں، لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ لڑکی والے بارات کے استقبال اور طعام پر بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ یہی نہیں، بارات سے پہلے رسمِ حنا بندی ادا کی جاتی ہے۔ راتوں کو ایک گھر سے دوسرے گھر جانے والے مہندی کی رسم  اَدا کرنے کے لیے سرِعام گانا بجانا کرتے ہیں۔ ویڈیو فلمیں بنائی جاتی ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کا سرِعام مذاق اڑایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں شادیوں کی دعوت ہوتی ہے اور بارات میں کسی بڑے سیاسی جلسے کا رنگ نظر آتا ہے۔ کیا بنے گا؟ اَمیر پیسے کی نمائش کرکے غریب کو مزید غریب کر دیتا ہے اور غریب کی بیٹیاں ہمیشہ بیٹیاں ہی بنی رہتی ہیں۔ اُنہیں دلھن  بننے کا موقع اِس لیے نہیں ملتا کہ اُن کے پاس وسائل نہیں۔

یہ عجب باتیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر شعبہ اپنی  اصل سے باہر ہو گیا۔ ہر ترتیب ٹوٹ گئی۔ کسی زمانے میں اُستاد کردار ساز ہوتے تھے۔ بچوں میں عظمت ِکردار پیدا کرتے تھے۔ روحانیت کا درس دیتے تھے۔ زندگی کی حقیقتوں سے آشنا کرتے تھے، اور آج کچھ اور ہی ماحول پیدا ہو گیا۔  درس گاہیں کچھ اور قسم کے انسان پیدا کر رہی ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہر طرف اسلام پھیل جائے، لیکن ہم نے خود جو اسلامی معاشرہ بنایا ہے، اُس کی حالت بے ترتیب سی ہے۔ ہم بچوں کو انگریزی سکولوں میں داخل کرواتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلامی روحانی معاشرہ پیدا ہو۔ ہم کیا   بو رہے ہیں اور کیا کاٹنا چاہتے ہیں؟

ہم عجب قوم ہیں۔عبادت عربی میں کرتے ہیں۔دفتروں میں انگریزی لکھتے ہیں، انگریزی بولتے ہیں۔ ہم عام طور پر گفتگو اُردو میں کرتے ہیں، گھروں میں اور بے تکلف ماحول میں مادری زبان استعمال کرتے ہیں۔ ہم اقبالؒ کے کلام کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُس کی زندگی پر اعتراض کرنے سے بھی باز نہیں رہتے۔ قائداعظمؒ کو بابائے قوم مانا جاتا ہے اور اُن کے دیے ہوئے پاکستان کی وہ عزت نہیں کرتے   جو اِس کا حق ہے۔

ہم رحم دِلی کا سبق دیتے رہتے ہیں،اُس کے فوائد اور محاسن بیان کرتے ہیں — لیکن کسی پر رحم نہیں کرتے۔ لوگ اتنے امیر ہیں کہ بس بے حساب۔ اَمیروں کا مال بڑھتا جا رہا ہے اور غریبوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ کیا ترتیب بنے گی؟ کیا رحم  دلی ہو گی؟ کیا بھائی چارہ ہوگا؟ کنارے پر آ جائیں تو امدادی کیمپ آپ کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے — لیکن ڈوبنے والے کے پاس تو کوئی امدادی نہ پہنچا۔ یہ وسائل کی بات نہیں ہے، یہ احساس اور جذبات کی بات ہے۔

Pages: 1 2 3