ٹیلی ویژن پر کُشتیاں دیکھنے والے کیا سیکھیں گے؟ ظلم دیکھنا اور ظلم کرنا پسندیدہ مشغلہ ہوتا جا رہا ہے۔ اِسی طرح شرم و حیا کے پردے چاک کیے جا رہے ہیں۔ ہماری روزمرّہ کی گفتگو میں نئے نئے لفظ شامل کیے جا رہے ہیں۔ گینگ ریپ ایک عام روزمرہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
ہمارے اخبار ملک میں ہونے والے گناہ اور جرائم کو نمایاں سرخیاں دے کر عوام کو کیا تعلیم دے رہے ہیں۔سنسنی خیزیت کا پیدا کرنا ایک کاروباری ضرورت ہو گیا ہے۔ فلمیں، ویڈیو فلمیں دن رات قوم کے کردار میں زہر گھول رہی ہیں۔ ہمارے بچے دیکھتے دیکھتے کچھ اور سے ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی پتہ نہیں کل کو ساری ترتیب کو مکمل طور پر بے ترتیب کر دیا جائے۔ اُس وقت سے ڈرنا چاہیے جب ساری ترتیب ختم ہو جائے۔ شاید وہی وقت قیامت کا ہو۔ باپ بیٹا اور ماں بیٹی کے درمیان حجابات اُٹھ چکے ہیں۔ کیسا اَدب اور کیا لحاظ!!
اِس سے پہلے کہ ہم سے سب کچھ چھن جائے، ہمیں بہت کچھ چھوڑ دینا چاہیے، اور پھر سے ترتیب ِ نو پیدا کرنی چاہیے۔ انسان، انسان کا دکھ محسوس کرے — بلکہ انسان، انسان کو انسان تو سمجھے۔ یہ فنا کی بستی ہے۔ یہ وقت کا عبرت کدہ ہے۔ یہاں سے بڑے بڑے فراعنہ لعنتی ہو کر نکلے۔ یہاں سے کوئی چیز اٹھائی نہیں جا سکتی۔ زمینیں انتقال کراتے کراتے بندے کا اپنا انتقال ہو جاتا ہے۔ ہم دوسروں کے مال کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اور آنے والی نسل مال کے انتظار میں ہماری رخصت کی دُعا کرتی رہتی ہے۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو ہو رہا ہے، وہ نہ ہو —اور جو نہیں ہو رہا ،وہ ہونا شروع ہو جائے؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک وحدت میں پھر سے پرو دیے جائیں؟ کیا تمام علماءاور تمام مشائخ اکٹھے نہیں ہو سکتے؟ کیا اِس قوم کو وہ وقت نہیں مل سکتا جس کے آنے کی دُعائیں کی جا رہی تھیں؟ کیا وہ قربانیاں جو شہید ہونے والوں نے پیش کیں، اُن کو رائیگاں ہونے سے بچایا نہیں جا سکتا؟ یہاں اپنے دیس میں بہت سے لوگ خود کو پردیسی مانتے ہیں —کیوں؟
کیا قوم حاکموں اور محکوموں میں تقسیم ہو جائے گی؟ کیا اِسے امیر غریب میں بٹ جانا چاہیے؟ کیا سکھی لوگ، دکھیوں کا آسرا نہیں بن سکتے؟ کیا موجود بے ترتیبی پھر سے حُسنِ ترتیب میں نہیں آ سکتی؟
یہ سوچنے کی بات نہیں ہے۔ یہ اُس کے فضل کے انتظار کا وقت ہے۔ ہم ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے عمل سے دراصل ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ملک ماں ہے۔ اِس کا ایک بیٹا مرے یا دوسرا مر جائے — برابر ہے۔ اپوزیشن بھی ایمان سے کام لے اور حکومت بھی خلوص کے ساتھ کام کرے۔ قوم اور ملک مزید کسی صدمے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ہم سارے ملک پر رحم کریں، اِس کی خدمت کریں اور قوم کی تشکیل کریں —اور پھر عناصر میں ظہورِ ترتیب پیدا ہو جائے گا۔