انسان نے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ لوگ اُس کی نگاہ سے گر گئے اور وہ خود انسانیت سے گر گیا — آج کا انسان اپنے علاوہ کسی کو کچھ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ صرف ایک حقیقت ماننے کو تیار ہے — اپنا وجود — اُس کی نظر میں باقی مخلوق غیر اللہ ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو معتبر مانتا ہے — ایسے عقیدے کا بھی کیا اعتبار—!
آج ہر آدمی ہر دوسرے آدمی سے بیزار ہے۔ دراصل خود پسندی اور خود پرستی کا منطقی نتیجہ بیزاری ہے— جس آدمی سے جو بات کرو، اُلٹا ہی جواب ملے گا۔ فرد، افراد سے بیزار ہے،طبقہ طبقوں سے۔حکومت رعایا سے تنگ آ گئی ہے، رعایا حکومت سے اُکتا چکی ہے۔ رشتے اذیت بنتے جا رہے ہیں— خون کے رشتے، خونی رشتے بنتے جا رہے ہیں — بڑوں نے چھوٹوں پر مصیبت ڈالی ہوئی ہے، چھوٹے بڑوں کے لیے عذاب بن رہے ہیں۔ عقیدہ معتقدوں سے اور معتقد اپنے عقیدے سے علیحدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ سورج اپنی کرنوں سے بیزار ہے اور کرنیں اپنا سورج چاٹ رہی ہیں۔
عجب بات ہے — زندگی ختم ہو جاتی ہے اور پروگرام ختم نہیں ہوتے — ہونی ہوتی نہیں اور انہونی ہوتی جا رہی ہے۔ وقت کے حساب سے رات ر خصت ہو چکی ہے، لیکن سورج ابھی تک نہیں نکلا۔ سفر ختم ہو گئے، لیکن منزلیں نظر نہیں آتیں۔ مسافر ختم ہو گئے، لیکن مسافرت باقی ہے۔ عجب حادثہ ہے، انسان چلتے چلتے مٹ گیا — مگر فاصلہ نہیں مٹتا۔ دوست دوستوں کو چھوڑ رہے ہیں۔ دشمن دشمنوں سے مل رہے ہیں۔ وفا کو حماقت سمجھا جا رہا ہے، اِس لیے کہ اس میں دوسروں کی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
آج کے دَور کے لیے ”تسلیم“ کا لفظ ناقابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے — کوئی شعبہ اپنی کسی غلطی کو نہیں مانتا — دوسروں کی کسی خوبی کو ماننا تو جیسے عذاب ہو — اور نتیجہ یہ ہے کہ سماج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ تبلیغ زوروں پر ہے، تسلیم کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ نئی عبادت گاہیں بن رہی ہیں۔ بڑے بڑے فانوس معلّق ہیں۔ بڑے بڑے طاقتور لاؤڈ سپیکر نصب ہیں۔ روحِ عبادت ہی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ وقت ہی کچھ ایسا ہے۔ اللہ کی عبادت کرنے والے،اللہ کی مخلوق سے بیزار ہیں — یعنی اللہ سے پیار ہے اور اللہ کے کام سے، اُس کے آرٹ سے، اُس کے فن سے، اُس کی مخلوق سے، یہ لوگ بیزار ہیں۔ اللہ انسان پیدا کرتا ہے۔انسانوں سے پیار کرتا ہے اور یہ لوگ عبادت کے بہانے انسانوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کو اللہ سے زیادہ اپنی عبادت سے پیار ہے۔ خدا جانے کیا ہونے والا ہے!
ابلیس خدا سے پیار کا دعویٰ کرتا تھا۔ اُس کی عبادت کرتا تھا، لیکن اُس کا حکم ماننے سے انکار کر گیا۔ اس نے تکبر کیا، کفر کیا۔ اِس لیے کہ اُسے انسان کی اہمیت کا شعور حاصل نہیں ہوا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسے مصوّر سے پیار ہے لیکن اُس کی بنائی ہوئی تصویروں سے پیار نہیں — تو اُس شخص کو کیا کہا جائے!