یہ کائنات اور اِس کی تمام رعنائیاں،اِس کے چاند، ستارے، سورج، پہاڑ، میدان، دریا،  سمندر، بادل، انسان، حیوان، چرند پرند، ظاہر مخفی مخلوق، اِس کے جمادات،نباتات سب خالق کا عمل ہے اور خالق کا    ہرعمل خالق کی طرح محترم اور معزز ہے۔

عقیدے اور اعتقادات انسانوں کو مزید انسان بنانے میں کام آتے ہیں، لیکن انسان ہونا شرط ہے۔ ہم شاید انسان ہونے سے، انسان بنے رہنے سے بیزار ہیں۔ ہم ہر چیز سے بیزار ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے بیزار ہیں۔ ہمارے پاس نہ تلاش ہے، نہ حاصل — یہ بیزاری انسان کی روح تک آ پہنچی ہے اور یہی معاشروں کی تباہی کا باعث ہے۔ اِس بیزاری کی وجہ سے ہر آدمی ایک خوفناک تنہائی کا شکار ہے — ایک دُور تک پھیلے ہوئے صحرا میں تنہا مسافر کی تنہا رات کی طرح۔ ہم جب تک دوسروں کو قبول نہیں کرتے،اُن کا احترام نہیں کرتے،اُن کو خالق کی مخلوق کے طور پر عزت سے نہیں دیکھتے،    تب تک ہمیں بات سمجھ میں نہیں آ سکتی۔

آج کی بیزاری کا یہ عالم ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے سے پوچھا:”بھائی! تم نے وہ کہانی سنی ہے؟“ دوسرے نے بیزار ہو کر جواب دیا:”نہیں!میں نے دوسری کہانی سنی ہے“ — اور یوں بات کو وہیں دفن کر دیا۔ کسی زمانے میں لوگ موسم کا حال بیان کرکے ایک دوسرے کے حالات جان لیتے تھے۔ ایک دوسرے سے تعارف کرتے تھے، ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے تھے، لیکن آج کوئی انسان کسی انسان کے قریب آنا چاہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خطرہ خطرے کے قریب آ رہا ہے۔

اُستاد شاگردوں سے بیزار ہیں اور شاگرد اساتذہ سے — علم کی تمنّا ختم ہو گئی ہے۔ لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن علم کے قریب نہیں جاتے۔ پیشہ ورانہ تعلیم کی تمنّا نے انسانوں کے درمیان بڑے فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔ انسان مشین بن کے رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر مریض کے مال سے محبّت  کرتے ہیں اور مریض کی ذات سے بیزار ہیں۔ مریض ڈاکٹروں سے تنگ ہیں لیکن بڑے بڑے ہسپتالوں میں بڑی رونقیں ہیں۔

انسان کو انسان سے کوئی پیار نہیں۔ مال کی محبّت  نے انسان سے انسانوں کی محبّت  چھین لی ہے۔ ترقی کی انتہا یہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں تباہ کن ایجادات کر چکی ہیں۔ زمین اور آسمان خطروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ خطرہ صرف انسان کے لیے ہے۔ انسان کا وجود خطرے میں ہے۔ قومیں قوموں سے بیزار ہیں، ملک ممالک سے۔ اِس بیزاری نے رُوس کو کیا دن دکھائے ہیں۔ کتنا بڑا عروج اور کتنا بڑا زوال! — امریکا  اب تمام قوت اور خود فریبی کے باوجود اِس قسم کے خطرے اور حالات سے دوچار ہے۔ غرور اور انسانوں سے بیزاری، انسان کو آخر برباد کر دیتے ہیں۔ مغربی تہذیب اپنے سفر کے شاید آخری حصے میں پہنچ گئی ہے۔ یہ آشیانہ اپنے ناپائیدار ہونے کا ثبوت فراہم کر رہا ہے۔

Pages: 1 2 3