اب بھی دنیا کی اُمّید اور اِنسان کے مستقبل کا اِمکان تہذیب ِمشرق میں ہے۔ مادّہ پرستی نے اِنسانوں میں بیزاری پیدا کی — ایک رُوحانی زندگی ہی اِس بیزاری کا علاج ہے۔ ابھی مشرق میں کچھ چراغ جل رہے ہیں۔ روشنی باقی ہے۔ لوگ روح کی باتیں کرتے ہیں، لیکن یہاں بھی مادّہ پرستی کی وَبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اِس مقام پر ہر ذی ہوش آدمی کا فرض ہے کہ وہ غور کرے۔ دولت سے محبّت کی بیماری سے شفا پائے۔ انسان سے محبّت کا آغاز کرے۔ دلوں میں پیدا ہونے والے فاصلوں کو کم کرے۔ خدا سے محبّت اور اُس کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے بنائے ہوئے انسانوں سے پیار کرے۔ جب تک انسان، انسان کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا، وہ سکون اور چین میں داخل نہیں ہوگا۔
یہ کائنات بہت مربوط ہے۔ اللہ نے ایک انسان کو آنکھ عطا کی ہے تو دوسرے کو خوبصورت چہرہ عطا فرمایا ہے۔ جب تک یہ دونوں حقیقتیں ایک دوسرے کے قریب نہ ہوں، جلوہ پیدا نہیں ہوتا۔ بس آئینہ آئینے کے سامنے ہو تو نظارہ ملتا ہے۔ حسنِ تخلیق یہ ہے کہ قوّتِ سماعت — اپنی قوتِ سماعت، محتاج ہے قوتِ گویائی کی — دوسروں کی قوتِ گویائی! یہ دوسرے لوگ بہت اہم ہیں، اپنے لیے — اپنے ہونے کے لیے۔ یہ نہ ہوں، تو ہم کیا ہیں۔ جاننے والے بزرگ کہتے ہیں کہ آج کل عالم یہ ہے کہ کفر بھی ”اپنی صداقت“ چھوڑ چکا ہے،اِس لیے اسلام میں بھی وہ جذبہ نہیں پیدا ہو رہا۔
اپنے اپنے مقام پر ہر چیز بدلتی جا رہی ہے۔ تعمیر اپنی بنیادوں سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ اِس بیزاری کو دُور کرنے کا طریقہ سوائے احترامِ آدمیت کے اور کیا ہو سکتا ہے! جو لوگ خدا سے محبّت کا دعویٰ کرتے ہیں اور مخلوقِ خدا سے بیزار ہیں، اُن لوگوں نے اِس بیماری کا آغاز کیاہے۔ ہم سب ایک دوسرے کو نصیحت کرتے ہیں، ایک دوسرے کو تبلیغ کرتے ہیں، ایک دوسرے پر غالب آنا چاہتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے محبّت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، کیونکہ ہم ایک دوسرے سے بیزار ہیں — حالانکہ ہم سب ایک ہی ہیں۔ ایک خالق کا عمل — ایک طرح سے زندگی میں داخل ہونے والے، ایک جیسا سفر کرنے کے بعد ایک جیسی موت کا ذائقہ چکھنے والے، ایک دوسرے سے بیزار کیوں ہیں؟ مسافروں کے درمیان مسافرت کے دوران کیا جھگڑا اور کیا بیزاری؟ اپنے دین اور اپنے عقیدے پر چلتے جائیں اور اِس سعادت سے محروم ہونے والوں کی خدمت کرتے جائیں تو شاید ایک اچھا وقت قریب آ جائے۔
ایک دفعہ جب حضور اکرمؐ لوگوں کو وضاحت فرما رہے تھے کہ بھوکوں کو کھانا کھلانے کی کیا اہمیت ہے تو ایک صحابی نے عرض کیا: ”یا رسول اللہؐ! کیا غیرمسلم کو بھی کھانا کھلانا ثواب کا باعث ہے؟“ آپؐ نے سختی سے فرمایا کہ بھوکے انسان کو کھانا کھلانا ہے،بھوکا تو بس بھوکا ہی ہے، مسلمان ہو خواہ یہودی، جہاں کوئی انسان بھوکا ہو، اُس کو کھانا کھلایا جائے۔
آج ہم دیکھتے ہیں اگر کوئی غریب دوائی کے لیے پیسے کا سوال کرے تو ہم اُس سے کہتے ہیں کہ پہلے تیسرا کلمہ سناؤ۔ ضرورت دوائی کی ہے۔ وقت تبلیغ کا نہیں ہے۔ تبلیغ کے لیے لاؤڈ سپیکر دن رات بول رہے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ لاؤڈ سپیکروں پر ٹیپ ریکارڈر بول رہے ہیں۔ شور پر شور مچا رہے ہیں۔ وقت بے وقت سب کچھ کہا جا رہا ہے۔ انسان کو اتنا کچھ سننے کو مل رہا ہے کہ بس خدا کی پناہ! مسجدوں میں تبلیغ،جلسوں میں تبلیغ، شادی میں تبلیغ، نماز جنازہ پر تبلیغ — ہر آدمی ہر دوسرے آدمی کو تبلیغ کر رہا ہے۔ اِتنی آوازیں سن کر اِنسان کے پاس سوچنے کا وقت نہیں رہتا، اورعمل کا وقت تو اور بھی مشکل ہے۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ انسان انسان کے قریب آ جائے اور ایک متفقہ لائحۂ عمل کے ذریعے قوم کو سکون کی منزل کی طرف گامزن کر دیا جائے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ قوم حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف میں تقسیم رہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ زندہ باد اور مردہ باد کے علاوہ اور کچھ نہ کیا جائے؟ کیا بیزاری سے بچت کی کوئی راہ نہیں؟
یہی وقت ِ دُعا ہے کہ اے اللہ !ہم سب پر رحم فرما۔ ہمیں خود پسندی کے عذاب سے بچا۔ اے اللہ! تُو ہر لحاظ سے اپنی قدرتوں سمیت اکمل و اعلیٰ ہے۔ تیری بنائی ہوئی ہر چیز ایک مصلحت رکھتی ہے اور سب سے خوبصورت مخلوق اِنسان ہے۔ اے اللہ! ہمیں انسانوں کی عزت کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں دوسروں کی حقیقت ماننے کا جذبہ دے۔ جو لوگ میرے اعتقاد پر نہیں چلتے، وہ ایک اپنی حقیقت رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق دے۔ جو لوگ ہمارے خلاف بولتے ہیں، اُن کی بات تحمل سے سننے کا حوصلہ عطا فرما، اور وہ جو ایک اچھے وقت کے انتظار میں بیٹھے ہیں، اُن کے حُسنِ انتظار کو ایک کامیاب منزل عطا فرما۔ وہ دَور نصیب کر دے کہ ہم تیری عبادت کریں اور تیرے بندوں سے محبّت — سورج اپنی کرنوں سے بیزار نہ ہو اور کرنیں اپنے سورج کو چاٹ نہ لیں۔ لوگ جس درخت کے سائے میں بیٹھے ہیں، اُس کا سایہ چُرا کر غائب نہ ہو جائیں۔ مروّت اور محبّت کے زمانے نازل فرما۔ ہمیں مال،شہرت اور اقتدار کے نشے کی بجائے سکون،مروّت،محبّت اور خدمت کے جذبات سے نواز دے۔