جب تک اِنسان چاندنی میں تھا،اُسے چاند تک پہنچنے کی تمنّا تھی— چاندنی میں لُطف تھا، لیکن چاند پاس نہیں تھا— چاندنی پاس تھی اور چاند کے لیے طبیعت اُدا س تھی — اِنسان چاند پر جا پہنچا— وہاں چاند تھا،لیکن افسوس کہ وہاں چاندنی نہ تھی —! چاندنی ہو تو چاند نہیں ملتا، چاند ملے تو چاندنی نہیں ملتی— عجب بات ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے دَم سے ہیں — ایک دوسرے کی پہچان ہیں— لیکن ایک دوسرے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الگ —!
چاند محبوب ہو تو چاندنی اُس کی یاد ہے — محبوب پاس ہو تو یاد پاس نہیں ہوتی — یاد پاس ہو تو محبوب پاس نہیں ہوتا — ایک کاتقرّب دوسرے سے بُعد ہے —ایک سے وصال دوسرے سے فراق کا ذریعہ ہے۔ محبوب سے وِصال ہو تو یاد سے فراق ہو جاتا ہے۔ یاد سے وِصال ہو تو محبوب سے فراق ہو جاتا ہے، گویا کہ ہر فراق میں وِصال پوشیدہ ہے اور ہر وِصال میں فراق شامل ہے — اگر عشق کو تمنّائے حبیبؐ کا نام دیں توا ِس میں فراق کا ہونا لازمی ہے۔ تمنّا کی ہستی مشاہدے تک ہے۔ دِیدار سے تمنّا کا آغاز ہوتا ہے اور تمنّادِیدار کی یاد میں پلتی ہے — جو ایک بار دیکھا،اُسے دوبارہ دیکھنے کی آرزو عشق ہے— عشق ہمیشہ فراق سے گزرے گا— عشق ہجر کے آتش کدوں میں جوان رہتا ہے —اور وِصال کے برف خانوں میں منجمد ہو جاتا ہے۔
بات کہنے کی نہیں— بس صرف غور کرنے کی بات ہے۔ فرشتے ہمہ وقت تقرّب میں ہیں— وِصال میں ہیں — وہ عشق سے محروم ہیں — وہ صرف فرشتے ہیں۔ اِنسان — فراق میں ہے— عشق میں ہے —اِنسان کے پاس یاد ہے — اور یہی فرق ہے دُنیا اور آخرت کا — یہاں اللہ کی یاد ہے —اور وہاں دِیدار ہو گا۔اِنسان کو اشرف بنایا گیا — اُس کا شرف یہی ہے کہ اُس کے پاس فراق ہے— اُس کے پاس عشق ہے — ا ُس کے پاس یاد ہے —تمنّائے وِصال ہے — اورفرشتے اطاعت میں ہیں —عشق میں نہیں۔ عشق سوز ہے، عشق ساز ہے، عشق خاموشی ہے،عشق آواز ہے —عشق میں حُسن کا سب سے بڑا راز ہے،یعنی فراق ہی تو وِصال کا حاصل ہے۔
دُنیا کے عظیم شاہکار فراق کے کرشمے ہیں— رومیو جولیٹ، ہیر رانجھا، سَسّی پُنّوں، سوہنی مہینوال —اور اِس طرح کے اور کئی دل نواز، دل سوز اور دِل گداز واقعات دریائے فراق کی جواں موجیں ہیں—!
محبوب کا سب سے قیمتی تحفہ اپنے محبّ کے لیے فراق کا تحفہ ہے —فراق کے زمانے شخصیت ساز زمانے ہوتے ہیں۔ اِنہی دِنوں میں اِنسان کے اندر کا اِنسان بیدار ہوتا ہے —خوابیدہ اور خفتہ صلاحیتیں دریافت ہوتی ہیں۔ اِنسان کا اپنا باطن اُس پر آشکار ہوتا ہے۔ محبوب کی یاد اُسے جگاتی ہے اور جاگنے والا اِنسان فراق کی راتوں سے اور بھی بہت کچھ حاصل کرتا ہے — ہجر کی رات،غم کی رات،عرفان ِذات کی رات ہوتی ہے — ا ِنسان کے آنسو اُس کے لیے ایک عظیم مقدّر لکھتے ہیں۔کسی کی یاد میں جاگنے والا کبھی بدقسمت نہیں ہو سکتا۔ کسی کے دَرد میں رونے والا دُنیا کے ہزار ہا غم سے آزاد ہو جاتا ہے۔محبّت کا سجدہ اِنسان کو ہزار سجدوں سے نجات دیتا ہے۔ فراق والے نالۂ نیم شب سے آشنا کرائے جاتے ہیں— وہ زمانے کا مقدّر بھی سنوار سکتے ہیں— ایسے لوگوں میں مقدّر ساز اِنسان بھی پیدا ہوئے۔