سوچنے وا لی بات ہے کہ چاند سے کیا چیز نکلی کہ دُنیا میں چاندنی بن کر بکھر گئی۔وہ کیا راز ہے کہ دیار ِیار سے نکلنے والا بے قرار عاشق زمانے بھر کا قرار بن گیا —!
وِصال جمود ہے اور فراق تحرّک ہے— وِصال موت ہے،فراق زندگی ہے — زندگی کی نیرنگی اور رنگینی ہے—!
فراق محرومی نہیں— یہ تو محبوب سے حاصل ہونے والا انتہائی قیمتی خزانہ ہے — یہ امانت ہے،جو صرف اُسی کو دی جاتی ہے جو اہل ہو— پہاڑ، زمین اور آسمان جس امانت سے لرز جائیں— انکار کرجائیں— وہ امانت اِنسان کے دِل کے لیے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت ہے— عشق — یہ دولت علم اور دانائی سے نہیں ملتی— مگس کو پروانے کا دِل نہیں مل سکتا،یہ خدا کی دین ہے— کہ وہی حُسن ہے اور عشق کی سب کار فرمائی اُسی کے فراق کی عطا ہے۔
قصّہ کوتاہ— سب محبوب کے اپنے جلوے ہیں— محبوب نظروں میں رہے تو وِصال کے موسم ہیں،بہاروں کے دِن ہیں— اگر محبوب دِل میں آبسے تو فراق کے موسم ہیں— انوکھی بہاروں کے دِن ہیں— فراق کی بہار میں موتی بنتے ہیں— پھول کِھلتے ہیں،یعنی کئی قسم کے گُل کِھلتے ہیں۔ آسمانِ فکرسے تارے گرتے ہیں—آنکھوں سے اَنگارے ٹپکتے ہیں۔ یہ دُنیا فراق کی وادی ہے— یہ دیس تو بس پردیس ہے— تمنّاؤں کا جہان ہے— یادوں کے کعبے میں عقیدت کے سجدے ہیں اور پھر اس کے بعد— جلوۂ ذات کے بعد صرف ذات ہی ذات ہے — نہ چُوں نہ چراں— نہ آنکھ جھپکنے کا موقع،نہ دِل دھڑکنے کی اجازت— محویتِ جمال، بارگاہِ حُسن میں سَنّاٹا— نہ دشواریٔ راہ کا گِلہ — نہ دیرینہ جدائیوں کا شِکوہ — نہ ہونے کی خبر— نہ،نہ ہونے کا علم ! وِصال صرف محویت ہے —فراق مستی ہے—سرمستی ہے۔ یاد کے عظیم صحرا میں صرف اَشکوں کا دریا ہے جس سے متلاشی سرمدی مَے کے جام پیتے ہیں اور روز مرتے ہیں،روز جیتے ہیں— بات تعلّق کی ہے — قریب اور دُور کی نہیں!