فراق آگہی کا چراغ ہے— یہ جنوں کا روشن ستارا ہے— ذرّے میں آفتاب کے جلووں کی دریافت ہے—جُزو میں کُل کا اِدراک ہے— قطرے میں قُلزم کی پہنائی کا عرفان ہے۔
وصال صرف ذات تک ہے —جبکہ فراق ساری کائنات تک— عالمِ شش جہات تک — افہامِ ممکنات ونا ممکنات تک — رموزِ حیات و ممات تک —!
فراق ہی کو ہُد ہُد ِ فرخندہ فال کہا گیا ہے —اُسے ہی طوطئ شکر مقال کہتے ہیں— فراق ہی ظاہری اور باطنی بیماریوں کا افلاطون ہے اور جالینوس ہے— اُس کے سامنے فاصلے،فاصلے نہیں — زمانے،زمانے نہیں— زمین و آسمان کی وسعتیں صاحبانِ عشق ہی طے کرتے ہیں۔
محبوب کا فراق مجاز کو حقیقت بنا دیتا ہے — ماسواء کو ماوراء سے کیا نسبت ہے —کوئی صاحبِ عشق بتائے تو بتائے۔عشق صفات کو ذات کا حوالہ دیتا ہے— عشق جانتا ہے کہ جلوۂ ذات کہاں ہے اور ذات کہاں— قطرہ دریا سے واصل ہو کر اپنی ہستی کھو دیتا ہے اور دریا کا درد قطرے کو سوزِ جاوداں دے کر اُسے کبھی شبنم،کبھی موتی،کبھی آنسو بناتا رہتا ہے۔
اِس کائنات کی تمام روشنی صرف روشن ذات کی یاد ہے— اُس کا عشق ہے۔ اِنسان کی ہستی کے تمام بلند تقاضے فراق کی دریافت ہیں۔ موسیقی، شعر، فن ِ تعمیر و تصویر، تخلیقِ ادب فراق کی لہروں میں پلتے ہیں۔ تمام تخلیقی اَدب اور اَدبی تخلیقات عشق کی دین ہیں۔ حُسن خود اپنے طالب میں دَرد کے چراغ جلاتا ہے اور پھر اِن ہی چراغوں میں خونِ دِل جلتا ہے اور کوئی فراق زدہ اِنسان اِن ہی چراغوں سے اپنے زمانے میں چراغاں کر جاتا ہے۔