اللہ نے یتیم کو کھانا کھلانے کا حکم دیا ہے۔ ہم یہ نہیں پوچھ سکتے کہ اللہ نے اُسے یتیم ہی کیوں کیا ہے۔ اللہ اُسے خود ہی کیوں نہیں کھانا عطا کرتا۔ شکوک و شبہات کی دنیا میں سوال اُبھرتے ہیں۔ یہ کیوں،ایسا کیوں نہیں،ایسے ہونا چاہیے تھا۔
شک ایمان کی نفی ہے۔ وسوسہ یقین کا گُھن ہے۔ اگر عاقبت اور خدا پر یقین نہ ہو تو خیال پراگندہ ہو جاتاہے۔ پراگندہ خیال سماج میں انتشار پیداکرتا ہے۔ جب تک انسان کو اپنے عقیدے پر مکمل اعتماد اور اعتقاد نہ ہو،وہ حقیقت کو کیسے تسلیم کر سکتاہے!
یقین سے محروم انسان صرف سوال ہی کرتا رہتا ہے کہ اللہ نے یہ کیوں کیا،ایسے کیوں نہیں۔ صاحب ِ یقین یتیم کو کھانا کھلاتا ہے اور اسے اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے۔ عقیدے کو ثابت نہیں کیا جا سکتا،اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کا ثبوت اپنی ہی پیشانی میں ذوقِ سجدہ کی شکل میں ملتا ہے۔ اگر ذوقِ جبیں سائی نہ ہو تو عقیدوں کےمحل مسمار ہو جاتے ہیں۔ مابعد پر صرف اعتماد ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس کی حقیقت کو ثابت کرنا مشکل ہے۔
آج کے انسان اور مسلمان کے لیے یہ مرحلہ مشکل ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو محفوظ رکھے۔ عقیدہ قدم قدم پر ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ ہم سوچتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ رزق کی تقسیم نا منصفانہ ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے کچھ اِنسانوں کو صرف غریب رہنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ اللہ جس نے سب کے لیے یکساں زندگی پیدا کی— سورج کی روشنی سب کے لیے ہے،سب انسانوں کو ایک ہی صورت عطا ہوئی،پیدائش ایک جیسی اور موت بھی سب کے لیے یکساں— اُس کے خزانے سب کے لیے ہیں لیکن معاشی ناہمواری کا سبب کیا ہے؟ کون ہے جو حق سے زیادہ حاصل کرتا ہے اور کون ہے جو حق سے محروم رہتا ہے۔
ستم کی بات تو یہ ہے کہ اَمیر آدمی اپنی دولت کو اللہ کا فضل بیان کرتا ہے۔ اَمیر اِنسان ناجائز ذرائع سے دولت کماتا رہتا ہے اور ساتھ ہی اعلان کرتا رہتا ہے کہ اُس کی عبادت منظور ہو گئی،اللہ نے رحم فرما دیا،وہ بڑا مہربان ہے۔ یتیم کا مال کھانے والا حج کرتا ہے اور خدا کے گھر میں داخل ہوتا ہے،بڑے یقین کے ساتھ۔ اللہ کا حکم نہ ماننا اور اُس کے رُوبرو ہونا،اُس کے دُو بدو ہونے کے برابر ہے۔ اَمیر آدمی کا غلط یقین غریب انسان میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ غریب سے عبادت کی دولت بھی چھن جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اللہ تو بس اَمیرآدمی کا اللہ ہے،اَمیر کی نافرمانیوں کو سزا دینے کی بجائے اُسے انعام دیتا ہے۔ غریب کو صرف غریبی برداشت کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ یہاں سے عقیدے میں دراڑ پڑتی ہے۔ اَمیر کی دولت اوردولت کی نمائش غریب کو اللہ کی رحمت سے مایوس کر دیتی ہے، لیکن عقیدہ پختہ ہو توانسان ہر حال سے گزر جاتا ہے، وہ مایو س نہیں ہوتا۔