صاحب ِ یقین خرد کی گتھیاں بھی سلجھاتا ہے اور گیسوئے ہستی بھی سنوارتا ہے۔ صاحب ِ گمان اپنے وسوسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسے نہ یہ زندگی راس آتی ہے نہ وہ زندگی،جس کے بارے میں اسے شک ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹتا رہتا ہے اور پھر شکستہ جہاز کو کوئی ہَوا بھی راس نہیں آتی۔
یقین کی طاقت پتھروں سے نہر نکالتی ہے۔موت سے زندگی نکالتی ہے۔یقین کچّے گھڑے کو پکا رنگ دیتا ہے اور گمان محلّات میں رہ کر لرزتا ہے،خوفزدہ ہوتا ہے،سراسیمہ رہتا ہے۔
یقین کے ساتھ اللہ ہے اور گمان کے ہمراہ شیطان۔ آج کی دنیا میں صاحب ِ کرامت ہے وہ انسان جوصاحب ِ یقین ہو۔ آج کے دَور کی آگ سرمایہ پرستی کی آگ ہے،ہوس پرستی کی آگ ہے،خود پرستی کی آگ ہے۔ آج کا ابراہیم وہ انسان ہے جو اِس آگ میں گلزار پیدا کرتا ہے،جس کی نگاہ خیرہ نہیں ہوتی،جس کی آنکھ میں یقین کے جلوے ہیں،جس کے دل میں اعتماد ہے اُس ذات پر جو اُس کی مسجود ہے،اُس کی محبوب ہے،جو ہمہ حال موجود ہے۔
ہم من حیث القوم بھی یقین سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم میں بلند فکری کا فقدان ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ ہم آپس میں بحث مباحثہ کرتے ہیں،اُلجھتے ہیں۔ صوبوں کی بحث ہے، زبان کی بحث ہے۔ اقتدار کی ہوس نے ہمیں یقین سے محروم کر دیا۔ ہم کوشش ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نصیب پر اعتماد نہیں۔ گدھا ہزار کوشش کرے،گھوڑے کا نصیب نہیں حاصل کر سکتا۔ ہم دوائی کو صحت سمجھتے ہیں اور صحت کو زندگی کا دَوام۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اِس فنا کے دیس میں کسی چیز کو قیام نہیں— نہ صحت ہمیشہ رہ سکتی ہے،نہ زندگی۔ ہمیں یقین کیوں نہیں آتا۔ ایک عارضی مقرر شدہ قیام کے بعد نہ فرعون رہ سکتا ہے،نہ موسیٰ ؑ— نہ کمزور ٹھہر سکتا ہے، نہ توانا۔ ہم اُس زندگی کے لیے جوابدہ ہیں جو ہمیں ملی۔ ہم دوسروں کے جوابدہ نہیں ہیں۔ کوئی کسی کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔ کسی سے وہ سوال نہیں ہو گا جو اُس سے متعلق نہ ہو۔ ہمیں اپنی پیشانی اور اپنے مسجود سے غرض ہے،اپنے ایمان اور اپنے یقین سے کام ہے۔
ہمیں اپنے وسوسوں سے نجات چاہیے۔ ہمیں اپنے دل سے اپنے عقیدے پر اعتقاد کرنا ہے۔ خدا سے دولت ِ یقین کا سوال کرنا ہے۔ اِلہٰی ! ہمیں پھر سے وہی یقین دے۔ ہمیں پھر سے اپنا بنا۔ ہمیں پھر وہی جلوے دکھا۔ ہمارے دلوں کو پھر سے نورِ ایمان عطا کر۔ ہمیں ہمارے گمانوں سے بچا۔ ہم شبہات کی دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ ہم شکوک کے تاریک راستوں پر آنکلے ہیں۔ الٰہی ! ہمیں عطا کر،پھر سے کوئی صاحب ِ یقین راہنما۔ ہم اپنی آرزوؤں کی کثرت کا شکار ہو گئے ہیں۔یقین کی وحدت عطا فرما۔