گمانوں کی تاریک راتوں میں یقین کے چراغ جلتے ہی رہتے ہیں۔ دولت مند انسان میں اگر خوفِ خدا نہ ہو تو اُس کی عاقبت فرعون جیسی ہوتی ہے۔ غریب کا یقین محفوظ رہے تو اُس کے لیے   رحمتیں ہیں۔ رزق صرف پیسہ ہی نہیں ہے،ایمان بھی رزق ہے۔ مال فنا ہو جاتا ہے  لیکن ایمان قائم رہتا ہے، ہمیشہ کے لیے!!

                اللہ کو ماننے والے ہر حال میں راضی رہتے ہیں۔ وہ صحت اور بیماری دونوں میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ صاحب ِ یقین ہر حال میں صاحب ِ یقین ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اِس دُنیا میں اللہ کریم نے ہر رنگ کے جلوے پیدا فرمائے ہیں۔ اَمیر کے لیے الگ بیماریاں ہیں۔ اُس کے الگ اندیشے ہیں۔  اُس کی عاقبت الگ مخدوش ہے۔ غریب اِنسان کے لیے غریبی باعث ِ ندامت نہیں۔

                اَمیر غریب کی بحث نہیں،ہر انسان بیک وقت اَمیر بھی ہے اور غریب بھی۔ جو اپنے نصیب پر خوش ہو،وہی خوش نصیب ہے۔ جس انسان کی آرزو حاصل سے زیادہ ہو،وہ غریب ہی ہے۔ دیکھنے والی بات صرف اتنی ہے کہ کون اپنے حال پر مطمئن ہے۔ کون ہے جو اپنی حالت پر راضی ہے۔ کون ہےجو اپنے ما حول میں صاحبِ یقین ہے۔ کون ہے جو گمانوں کے لشکر میں گھرا ہے۔ کس کا دِل اُس کی یاد سے آباد ہے۔ کون ہےجو عارضی زندگی پر مغرور ہے۔ کیا صرف دولت ہی نے اِنسان کو اپنے رب کے سامنے مغرور کر رکھا ہے۔ امیر  غریب ختم نہیں ہو سکتے۔ عقیدے کے قیام کے ساتھ بھی یہ طبقے قائم رہتے ہیں۔ زکوٰۃ دینے والا تب ہی ہے،جب لینے والا ہو۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ کون ہےجو اَمیر ہو کر خوفِ خدا رکھتا ہے اور کون ہے جو غریبی میں یقین کی دولت سے مالا مال ہے۔ تخلیق میں رنگینی اور حُسن اِسی وجہ سے ہے کہ کوئی کسی کے برابر نہیں۔ کوئی کسی کے برابر نہیں ہو سکتا۔ کوّا،کوّا رہے گا اور مور،مور۔ اچھا اَمیر بھی بہت اچھا ہے، بُرا غریب بھی بہت بُرا۔ اللہ کے ہاں تقویٰ کی عزت ہے۔

                یہ کتنے غور کی بات ہے کہ جس اِنسان پر اللہ دُرود بھیجتا ہے،اُس کو یتیمی اور غریبی سے گزرناپڑا۔ عجب بات ہے کہ نبیوں کے نبیؐ ہیں،پیغمبروں کے پیغمبرؐ ہیں،دُنیا کے ہر اِنسان سے زیادہ معزز ہیں اور وادیٔ طائف سے زخمی ہو کر نکلتے ہیں، اور اللہ آپؐ کے ساتھ ہے۔ بات تقرّب کی ہے،تعلق کی ہے،ثروت و دولت کی نہیں۔ اگر گھر میں چراغاں ہو اور دل میں تاریکی تو کیا حاصل۔ اگر غریبی میں سرمایۂ یقین مل جائے تو ایسی غریبی پر ہزار خزانے قربان۔

                آج کا دَور سائنس اور فلسفے کی وجہ سے بے یقینی کا شکار ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ کثرتِ مال کے اندر تنگیِ حال موجود ہے۔ اِنسان کو غافل کر دیا ہے کثرتِ مال نے، حتیٰ کہ وہ قبر میں جا گرتا ہے اور پھر اُن مسرتوں پر افسوس ہوتا ہے جو غریب کو اُس کے حق سے محروم کر کے حاصل کی گئیں۔

Pages: 1 2 3 4 5