اے خاموشی کی زبان سننے والے مالک! اے اپنی مخلوق کے ہر حال سے ہمہ حال باخبر رہنے والے مولا! ہم پر رحم فرما ! تُو ہی تو جانتا ہے کہ ہم کس چیز سے محروم ہو رہے ہیں۔ اے بنانے والے! ہمیں پھر سے بنا — ہم شاید ہم نہیں رہے۔ سب کچھ وہی ہے لیکن سب کچھ بدل سا گیا ہے— !
ہمارا آسمان خوبصورت ہوتا تھا مگر اب وہی آسمان ہمارے سر پر وزن ڈال رہا ہے۔ پاؤں تلے سے زمین نکلا چاہتی ہے۔ ہم تیرے دیرینہ اِلتفات سے محروم سے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہماری زندگی تیرے محبوبؐ کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹک گئی ہے— !
ہم انسان کی محبّت سے محروم ہیں— انسان، انسان کے قریب آئے تو یوں لگتا ہے کہ خطرہ، خطرے کے قریب آ گیا ہے — بھائی، بھائی کے لیے خوف پیدا کر رہا ہے۔ ہم پر بے یقینی کی وبا نازل ہو چکی ہے۔ ہر آدمی ہر دوسرے آدمی سے ڈر رہا ہے۔ ہم عزمِ کوہکن کی باتیں کرتے ہیں لیکن ہم حوصلہ شکن واقعات سے روشناس کر دیے جاتے ہیں۔ جس قوم کے دل سے علماء اور اُدباء کا احترام ختم ہو جائے،اُس کے انجام سے ڈر سا لگتا ہے۔
میرے مولا ! تُو ہی ہمیں اندھیروں سے نکال— ہمیں روشنی دکھا، ہمیں راستہ دکھا — اپنی محبّت کا راستہ— کامیابیوں کا راستہ— یقین کی منزل دُور ہوتی جا رہی ہے — تیرا فضل چاہیے — تُو نے ہمیشہ ہمارے ساتھ مہربانی کی— عظیم مہربانی، بڑا احسان ! تیرا فضل ہمیں میسّر رہا — اب کیا ہو گیا؟
ہم نے شاید شکر کرنا چھوڑ دیا — ہم گلہ اور شکایت کرنے والی قوم بنتے جا رہے ہیں— ہمارا مستقبل محرومی نہ ہو جائے— میرے مولا ! تیرا اپنا ارشاد ہے: ’’اگر تم شکر کرو گے تو نعمتوں میں اضافہ کروں گا“— ہم توبہ کرتے ہیں، ناشکرگزاریوں سے توبہ، احسان فراموشی سے توبہ !
میرے آقا ! تیرا شکر ہے کہ تُو نے ہمیں اپنے پیارے نبیؐ کی اُمّت میں پیدا کیا — ہراحسان سے بڑا احسان یہی احسان ہے۔ ہمیں اپنی اِس عنایت کی قدرکرنے کا شعور بخش— ! میرے مالک ! تُو نے ہمیں اس ملک کی نعمت سے نوازا — یہ صرف تیرے فضل اور تیری شفقت کے سبب سے ممکن ہوا — تُو نے دس کروڑ غلام مسلمانوں کو آزادی کا شعور اور آزادی کے حصول کا حوصلہ بخشا— دس کروڑ غلام مسلمان آزاد مملکت حاصل کر گئے اور آج دس کروڑ[1] آزاد مسلمان اس مملکت اور اِس آزادی کی حفاظت کرنے کا حق اَدا نہیں کر رہے!