میرے اللہ ! ہم تیرے سب احسانات کا شکر ادا کرتے ہیں۔ تُو نعمتوں میں اضافہ فرما — ہمیں ایک منزل کے حصول کے لیے آمادۂ  سفر کر— ہم مختلف گروہوں میں بٹتے جا رہے ہیں — ہمارے ہاں کچھ لوگ ظالم ہیں، کچھ مظلوم۔ ہم پر رحم فر ما —  جب محروم اور غریب اُس مقام تک پہنچا دیا جائے کہ وہ تیری رحمت سے مایوس ہونے لگے ،تو وہ وقت اُمراء کے لیے آغازِ عبرت کا وقت ہوتا ہے۔ یا اللہ! جنہیں دولت دی ہے انہیں سخی بنا اور جنہیں غریب بنایا انہیں اپنے قریب  رکھ !!

  اے شفیق و رحیم آقا ! ہم ڈرتے ہیں کہ ہمیں ہمارے اعمال کے حوالے نہ کر دیا جائے  — ہمیں اعمال کی عبرت سے بچا — ہمیں اُس بُڑھیا کے انجام سے بچا جس نے محنت ِشاقہ سے سُوت کاتا اور آخر میں اسے اُلجھا دیا۔ ہمیں رائیگاں محنتوں سے دو چار نہ ہونے دے۔ میرے خدا! ہم پر کسی بیرونی دشمن نے نہیں، اندرونی دشمن نے عذاب ڈالا— سفید پوش طبقے کی کمائی، تیری کتاب چھاپنے والوں کے ادارے میں لُٹ گئی — فنانس کمپنیاں غریبوں سے ظلم کر گئیں—  میرے مولا! حالات بہتر فرما—  تُو تو مسبّب ہے۔ سکون کے اسباب پیدا فرما— !

  یہ ملک تیرا ہی ہے — تیر ے لیے، تیرے نام کی عظمت کے لیے، تیرے ہی فضل سے بننے والا یہ ملک تیرے اور صرف تیرے ہی کرم سے قائم رہ سکتا ہے —  تُو اَکابرین ِ ملّت کے دِلوں کو ہدایت سے منوّر فرما، تاکہ ملّت میں وحدتِ کردار پیدا ہو سکے۔ دشمن کبھی طاقتور نہیں ہوتا، بس دوست ہی چھوڑ جاتے ہیں — اے اللہ ! ہم اِلتجا کرتے ہیں، ہم تیرے دربار میں دُعا کرتے ہیں کہ ہم پر رحم فرما—!

  دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ ہم ڈرتے ہیں اُس دن سے، جب ہمارے اعمال ہماری عبرت  بن کر ہماری راہ میں کھڑے ہوں گے اور پھر اُس کے بعد کوئی راستہ نہیں ہو گا۔  یا الٰہی ! تُو ہماری منزل کو آسان فرما — ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے ماضی، اپنے حال اور اپنے مستقبل پر خوش ہونے والی قوم بنا — ہمیں وسوسوں سے باہر نکال۔ ہمیں مغرور اور مایوس ہونے سے بچا۔ ہم  مال جمع کرنے والی اور گننے والی قوم بنتے جا رہے ہیں، ہم چھینا جھپٹی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ عافیت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

 کامیاب ریاست تو وہی ہے کہ ایک خوبصورت عورت، زیورات سے لدی ہوئی، تن ِ تنہا ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کر جائے اور اسے کوئی خطرہ نہ ہو— ایک ایسا معاشرہ جس میں نہ کوئی مظلوم ہو، نہ محروم — میرے اللہ ! یہ دَور کبھی آئے گا؟ تُو چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ تُو نے تو حرفِ ’’کُن“ کہنا ہے اور پھر بدل جائے گا نظامِ ہستی — تیرے ہی کرم کی بات ہے— تیرے ہی فضل کا سوال ہے— تیرے ہی رحم کا آسرا— تیری ہی عنایات کا سہارا ہے— !

 تُو ہمارے دلوں کو اپنے نُور سے زندہ کر— ہماری راتوں کو اپنی یاد سے آباد کر— ہمیں سوزِ دروں سے نواز دے— ہمیں نمائش اور آلائش سے بچا۔ ہم پر نازل فرما، اپنے کرم کی بارش —  ہم پر آسان فرما، اپنی معرفت کی منزل— ہمیں ایک بار پھر وہی جامِ اُلفت دے— آباد کر اُجڑے ہوئے آشیانے— ایک بار پھر اِس قوم کو سنبھلنے کا موقع دے— ہمیں ایک درخشاں تاریخ لکھنے کا موقع دے— ہمیں تاریخِ اسلام میں کسی روشن باب کا اضافہ کرنے والا بنا۔

Pages: 1 2 3