اے مالک ! تُو ہمیں وہ زندگی دے کہ ہم بھی خوش رہ سکیں اور تُو بھی ہم پر راضی رہے۔ اے اللہ ! ہماری زندگی کے تقاضے اور دین کے تقاضوں میں جو فرق آ چکا ہے، اسے دُور فرما۔ ہماری زندگی کی ضروریات اور ہیں اور دین کی ضرورت اور ہے—!!
یا الٰہی ! ہمیں لیڈروں کی یلغار سے بچا! ہمیں ایک قائد عطا فرما— ایسا قائد جو تیرے اور تیرے حبیبؐ کے تابع فرمان ہو، ہم اُس کی اطاعت کریں تو تیری ہی اطاعت کے حقوق ادا ہوتے رہیں۔ مولا ! اس قوم کو میزان کا محافظ بنا! عدلیہ کا میزان،تجارت کا میزان ، سیاست کا میزان ،علم و تعلیم کا میزان ،اور امانتوں کی حفاظت کے اداروں کے نظام کا میزان!
اے مولا ! تُو بن مانگے دینے والا ہے، اور ہم لا علم یہ بھی نہیں جانتے کہ تجھ سے کیا مانگا جائے۔ ہمارے لیے جو بہتر ہے وہ بِن مانگے دے دے اور جو ہمارے لیے نامناسب ہے، اُس کے مانگنے کی توفیق ہی نہ دے۔
یااللہ! اِس قوم کے دن دیانت دارا نہ محنت میں گزریں— اِس قوم کو رزقِ حلال سے تعارف کروا— اِس کی راتوں کو اپنے ذکر سے آباد رکھ۔ جس قوم سے نالۂ نیم شب اُٹھ جاتا ہے، اُس سے سکون اُٹھ جاتا ہے۔ یا اللہ ! ہمیں اپنے خوف کے علاوہ ہر قسم کے خوف سے آزاد رکھ ! یااللہ! آدمی کا آدمی کے دل میں احترام پیدا کر— ہم میں ایک عظیم قوم بننے کی صفات پیدا کر — والدین کو اولاد کی گستاخی سے بچا، اولاد کو والدین کی ناراضی سے بچا — ہمارے مستقبل کو ہمارے حال سے بہتر بنا — ہمیں وعدے پورے کرنے والی قوم بنا۔ ہمیں مخالفین کو معاف کرنے کا حوصلہ عطا فرما۔ ہمیں اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کی جرأت عطا فرما— !
اِس قوم کو ایک قوم بنا— الٰہی! اپنی توحید کا واسطہ، مسلمانوں میں وحدت پیدا فرما! تیرے حبیبؐ کی اُمّت، تیرے حبیبؐ کی اُمّت کہلانے کی مستحق ہو جائے—! یاالٰہی! سادہ اور صداقت والی زندگی عطا فرما! — اور سب سے بڑی بات—تیرے کرم کی انتہا چاہتے ہیں کہ تجھ سے تیرے محبوبؐ کی محبّت مانگتے ہیں۔
[1] یہ مضامین 1980ء کی دہائی میں تحریر کیے گئے، اس وقت وطنِ عزیز کی آبادی دس کروڑ تھی۔