سورج کے پاس علم نہیں، روشن نصیب ہے۔ علم بادِ صبح گاہی اور آہِ سحر گاہی سے ملتا ہے، تحیرّ سے ملتاہے، تعلّق سے ملتا ہے اور تقرّب سے ملتا ہے۔ کتاب کا علم فیض ِ نظر تک نہیں پہنچا سکتا۔ ایک معمولی سا کھلنے والا پھول علم دے سکتا ہے۔
شب ِ تاریک کی گہرائیوں میں آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو علم کے خزانے عطا کرتے ہیں۔ اللہ کا فضل ہی انشراحِ صدر عطا فرماتاہے۔ ہر عارف عالم ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ ہر عالم عارف بھی ہو۔ بغیر تزکیہ کے کتاب کا علم خطرے سے خالی نہیں۔ شیکسپیئر اور غالؔب کو پڑھنے والا، نہ ویسا ڈراما لکھ سکتا ہے، نہ ویسا شعر کہہ سکتا ہے۔ غزالیؒ کو پڑھنا بجا، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ غزالیؒ نے کسی کو پڑھ کر یہ رُتبہ نہیں پایا۔ علم کوشش سے نہیں، مقدّر سے ملتا ہے۔ علم اُس وقت تک حاصل نہیں ہوتا، جب تک کوئی عطا کرنے والا نہ ہو۔ علم نگاہ سے ملتا ہے، کتاب سے نہیں۔ علم کا مخرج ”نگاہ “ ہے اور اِس کا مدفن کتاب!
تعلیم بھی علم نہیں۔ تعلیم کا تعلّق ڈِگری سے ہے۔ علم ڈِگریوں اور یونیورسٹیوں سے بے نیاز ہے۔ جن لوگوں کی کتابیں یونیورسٹی میں پڑھائی جاتی ہیں، وہ خود کس یونیورسٹی کے طالبعلم تھے؟ تعلیم ضروری ہے، نوکری کے لیے۔ نوکری ضروری ہے، حصولِ رزق اور سماجی مرتبہ کے لیے، لیکن علم نوکری نہیں، علم روٹی نہیں، علم حکومت نہیں۔ علم پہچان ہے، عرفان ہے۔ ضرورت کا علم اور شے ہے، علم کی ضرورت اور شے!!
آج کی تعلیم، عیاں را چہ بیاں، آج ہی نتیجہ دے رہی ہے۔ طالب علموں کے حالات، تعلیم کے ناقص ہونے کا ثبوت ہے۔ آج کا طالب ِ علم، علم سے بیزار ہے۔ آج وہ استاد کہاں ملیں گے جو طالب علموں کو فیض ِ نگاہ سے آدابِ فرزندی سکھاتے تھے۔ آج کے طالب علم سے آج کی تعلیم نے علم کی محبّت چھین لی ہے۔ ابھی وقت ہے۔ پانی سر سے نہیں گُزرا۔ اِس کا تدارک ہونا چاہیے۔ بد علمی سے بے علمی ہی بہتر ہے۔
پیغمبروں کے پاس تعلیم نہیں، علم ہوتا ہے، بلکہ مکمل علم ہوتا ہے۔ زمانے کے معلّم مکتب سے نہیں، رحمان سے علم حاصل کرتے ہیں۔