آج ہمیں اُسی علم کی ضرورت ہے۔ وہی ہماری اساس ہے اور وہی عاقبت۔  ہمیں زندگی کا علم چاہیے اور مابعد کا علم بھی چاہیے۔ ہمیں ظاہر کے علم کی ضرورت بھی ہے اور باطن کے علم کی بھی۔  ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ چند روزہ زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنا ہے اور پھر اُسے چھوڑنا بھی ہے۔ پھیلنا بھی ہے،  سمٹنا بھی ہے۔  یہی تعلیم کا المیہ ہے کہ تعلیم تلاشِ روزگار کے لیے ہے،  تقرّب پروردگار کے لیے نہیں۔

ہم اُمّی رسولؐ  کی اُمّت ہیں۔ ہمیں بے جہت اور بے سمت تعلیم کہاں لے جائے گی۔  مغربی تعلیم اسلامی نتیجہ کیسے پیدا کرے گی،  اور اِسلام کی تعلیم بھی اِسلام نہیں۔  اِسلام عمل ہے۔ اِسلام بتانے والی بات نہیں،  کرنے والا کام ہے۔

بہر حال علم اُس کی عطا ہے،  جس نے زندگی عطا فرمائی۔ عطا کو حاصل کرنے کے لیے دُعا کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔ معلومات اور انفارمیشن کا علم آزمائش میں پورا نہیں ا ُتر سکتا۔
کشتی کے مسافروں کو ”صَرف و نحو“ کی ضرورت نہیں،  انھیں تیرنا بھی آنا چاہیے۔

علم کو نُور بھی کہا گیا ہے اور حجابِ اکبر بھی۔ نُور اِس لیے کہ علم پہچان کا ذریعہ ہے، آگہی اور اِدراک کا باعث ہے،  اَسماء و اشیاء کا شعور ہے۔  ہمیں علم کی پہچان نہیں، بلکہ مالک کی پہچان درکار ہے۔ خالق کو جاننا ہے۔  اپنے رازق سے باخبر ہونا ہے۔ کائنات کی نیرنگیوں سے لطف اندوز ہونا ہے۔  حیات و مرگ کے رُموز دریافت کرنا ہیں۔  وہ علم جو ہمیں اِن سے آگاہ کرے،  نورانی ہے۔  نورانی علم صرف یہ نہیں بتاتا کہ سبزہ و گُل کہاں سے آتے ہیں،  بلکہ وہ علم ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون پالتا ہے۔ نورانی علم نشانِ منزل کا علم ہے،  تزکیہ و حکمت کا علم ہے،  اُلجھنوں سے نجات کا علم ہے،  کیف و وجدان کا علم ہے، سراسر رحمان کا علم ہے۔

جس علم سے غرور پیدا ہو،  اُسے حجاب کہا گیا ہے۔  جو علم نگاہ سے محروم ہو،  وہ حجاب ہے۔  جو تعلّق سے گریزاں ہو،  وہ علم حجاب ہے۔  جو اپنی اَنا کے خول سے باہر نہ نکلے،  وہ علم حجاب ہے۔
ابو جہل کے پاس علم تھا،  لیکن نگاہ نہ تھی۔  اگر نظر نہ ہو تو علم جہالت سے بد تر ہے۔  اِنسان معلوم پر نازاں ہوتا ہے اور اُسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ہمہ وقت نا معلوم کی زد میں ہے۔  وہ خوش ہوتا ہے کہ اُس کی دولت بڑھتی جا رہی ہے اور وہ بھول جاتا ہے کہ اُس کی عمر گھٹتی جا رہی ہے،  کٹتی جا رہی ہے۔  ایسے علم سے تو بہ بہتر،  جو صاحب ِ علم کو نفع نہ دے۔

Pages: 1 2 3 4