میں اِس راز کو حل کرنا چاہتا ہوں کہ میرے خیال کیوں میرے خیال نہیں ہیں؟ مَیں حال میں ہوں لیکن میرا علم، میری دینی تعلیم،میری محبتیں ماضی میں ہیں۔ میری عقیدت ماضی سے وابستہ ہے۔ اگر ماضی یک لخت ختم ہوجائے تو میرے پاس میرا دین بھی نہیں رہ جاتا۔ میری تاریخ ختم ہو جاتی ہے۔ میرے تمام قواء مفلوج ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ گویا ایک وسیع پس منظر کے آگے ایک دیوار سی بن جاتی ہے۔ میں ماضی میں رہتا ہوں—  اُن لوگوں کی یاد میں رہتا ہوں جن کو مَیں نے دیکھا نہیں، جو میرے ہم عصر نہیں۔ مجھے اُن سے عقیدت ہے۔ مَیں مزار کو بھی ایک راز سمجھتا ہوں۔ ایک پردہ ہے جس کے پیچھے بہت سی تجلّیات چھپی ہوئی ہیں۔ مَیں اُن کے خیال میں رہتا ہوں، وہ میرے خیال میں رہتے ہیں۔ گویا  مَیں وہاں ہوتا ہوں، جہاں مَیں نہیں ہوتا۔ میرے سامنے وہ نظارے ہیں جو میرے سامنے نہیں ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسے ہو گیا کہ میں چلتے چلتے کہیں اور چلا گیا۔ میری رہائش کہیں ہے اور مَیں رہتا کہیں اور ہوں۔

مَیں مزارات کے بارے میں سوچتا ہوں، خانقاہوں کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یااللہ! یہ کون لوگ تھے کہ جن کے ہاں مر جانے کے بعد بھی میلہ لگا رہتا ہے۔ اُنہوں نے موت کو میلہ بنا دیا اور ہم ہیں کہ زندگی  پر بھی سکوت ِمرگ مسلّط ہے! مَیں سوچتا ہوں کہ مَیں کس حد تک اِس بات کو سوچتا رہوں گا کہ یہ سب کیا ہے؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ مَیں بھی بھوک لگنے پر کھالوں اور نیند آنے پر سو جاؤں۔ اپنے آپ میں رہوں، اپنا بھلا سوچوں اور صرف اپنے لیے زندہ رہوں، اور صرف اپنے لیے مر جاؤں، لیکن یہ بات تو ممکن نہیں۔ مَیں اپنے عزیزوں میں تقسیم شدہ ہوں۔ اپنی چاہتوں میں بکھرا  ہوا ہوں اور اپنے خیال کی رفعتوں تک وسیع ہوں۔ مَیں ایک سلسلہ ہوں کہ پچھلے سلسلے کی آخری کڑی ہوں اور آنے والی نسلوں کا آغاز بھی ہوں۔ مجھ پر اختتام ہے اور مجھ سے ہی آغاز ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مَیں، ابھی کچھ عرصہ ہوا، شَے مذکور نہیں تھا اور اب مَیں کہیں نہ کہیں ہوں۔ یہ مختصر سی موجودگی نہایت ہی مختصر ہے۔ ایک چنگاری ہے کہ چمکتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے۔ آج بھی بے شمار مقامات پر ہم کسی شمار میں نہیں ہیں۔ نتیجہ پھر وہی نکلتا ہے کہ میرا ہونا، میرا نہ ہونا ہے۔  میں ایک گھونٹ چشمہِ بقا سے پیتا ہوں اور دوسرا گھونٹ بحرِ فنا سے —  اور اس طرح مَیں مرتا جیتا رہتا ہوں۔

کبھی مَیں محبّت  بن کر کسی کے دل میں دھڑکتا ہوں اور کبھی نفرت بن کر کسی کے اندر آگ لگا دیتا ہوں۔ میں چلتے چلتے ٹھہر جاتا ہوں اور ٹھہرتے ٹھہرتے چل پڑتا ہوں۔ کبھی راہ سے بے راہ ہو جاتا ہوں اور کبھی گمراہی کی منزلوں میں راستوں کا نشان بنا دیا جاتا ہوں۔ مَیں کبھی نظروں میں سماتا ہوں اور اِن نظروں سے گر جانے کا عمل بھی جانتا ہوں۔

مَیں دیکھتا ہوں، میرے اندر کوئی راہنما جذبہ کارگر ہے،  جس کے دَم سے مَیں چل رہا ہوں۔ مَیں اُس کی عطا کے سامنے اپنی خطا    کا ذکر نہیں کرتا۔ مَیں تو ہوں ہی خطا اور وہ — سراپا عطا! بہرحال مَیں سوچتا ہوں کہ یہ راز کیا ہے اور پھر یہ بھی سوچتا ہوں کہ یہ راز جو کھٹک رہا ہے اپنے سینے میں اور اپنے اظہار کے لیے بے تاب  —  یہ راز اصل میں ہے کیا؟ کیا یہ صرف انفرادی راز ہے یا یہ ”وہ “راز ہے؟    وہ — جس کا اظہار، انتظار کیا جا رہا ہے۔

یہ عجب بات ہے کہ ایک بے قرار دل غزل کہہ دے اور ہزاروں بے قرار دلوں کو قرار آ جائے۔ مصنّفین اپنی کتابوں کی شکل میں اپنے مرنے کے بعد بھی اپنے چاہنے والوں کی لائبریری   میں محفوظ رہتے ہیں۔ کیا انسان اپنا وجود ہے یا اپنا نام!—  بس !اِس نام کے پردے میں ایک راز ہے اور اِسی راز کے بارے میں، مَیں غور کر رہا ہوں۔

Pages: 1 2 3 4