یہ عجب راز ہے، کہ یہ راز ایسا ہے کہ اس کو جتنا بیان کرو، اتنا ہی بیان نہیں ہوتا۔ یہ وہ راز ہے جو تلاش کرنے والوں کو حاصل نہیں ہوتا،  کیونکہ یہ خود ہی تلاش ہے۔ جس کو ملتا ہے اس کو بتائے بغیر ملتا ہے کہ یہ راز ہے۔ یہ راز کئی شکلیں اختیار کر سکتا ہے۔ ایک سائل آتا ہے،  دروازے پر دستک دیتا ہے۔ خیرات کا سوال کرتا ہے۔ انکار پر وہ کہتا ہے: ”مجھے غور سے دیکھو، میں تمہارا راز ہوں۔ میں بخیل کو سخی بنانے والا نسخہ ہوں۔ عبادت اُس منزل پر نہیں پہنچاتی جہاں میرے دل سے نکلی ہوئی دُعا — بیٹا دُعائیں لو!—  یہ نیکی ہے“۔

اِنسان خالق کا مظہر ہے۔ اِس کی قدر کرو۔ یہ تم ہی ہو۔ تمہارا بھائی، تم ہی ہو — جس طرح تمہارا ہاتھ تم ہی ہو۔ تمہاری آنکھ تمہاری ہے، لیکن نہیں —  یہ جلووں کی ہے — انہوں نے تیرے پاس آنے کا یہ راستہ بنا رکھا ہے۔ اصل میں جلووں کا آنا مقصد ہے۔ تم جلووں کے لیے   ہو — گویا   تم جلووں میں ہو۔ جب تم ہی جلووں میں ہو تو پھر تم خود ایک جلوہ ہو۔ تمام نظاروں کی کنجی تیری آنکھ میں ہے۔ تیری آنکھ  نظاروں کا ایک حصہ ہے۔ یہ نہ ہو تو نظاروں کا حُسن ختم ہو جاتا ہے — گویا  نظاروں کی جان تیری آنکھ ہے۔کبھی اپنی آنکھ کا نظارہ دیکھنے کی کوشش کرو —  نہیں!—  یہ راز، راز ہی رہے گا کہ آنکھ کی نظر کیا ہوتی ہے اور منظر کی آنکھ کیا؟ یہ ساتھ رہتے ہیں اور پہچان نہیں ہوتی۔

انسان خود ہی کسی کا راز ہے۔ وہ خود کیا راز دریافت کرتا ہے؟ —لیکن ابھی وہ راز، اظہار کے انتظار میں ہے۔ اسے معلوم کرنے کی کوششیں صدیوں سے ہو رہی ہیں۔ اقبالؒ کو قدسیوں نے بشارت دی: ”وہ راز اب آشکار ہوگا!“  اِس راز کا راز یہ ہے کہ  جو شخص ا ِس راز کو دریافت کرنے نکلتا ہے، وہ خود ہی راز کا حصہ بن جاتا ہے۔ نگاہِ یار انسان کو آشنائے راز کرتی ہے لیکن راز آشنا، راز بیان کرنے کی بجائے جلوۂ نگاہِ     یار میں کھو جاتا ہے۔ اُس کے زمین و آسمان بدل جاتے ہیں۔ وہ اِس دنیا میں رہتے ہوئے کسی اور دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ باتیں کرتا ہے۔ سننے والے کہتے ہیں، یہ سب بہکی بہکی باتیں ہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے اور سننے والے جانتے نہیں — اور جاننے والے سنتے نہیں —اور اس طرح یہ راز گونگے کا خواب بن کر رہ گیا ہے جس کو دیکھنے والا گونگا تھا، سننے والے کیا سنتے؟  بہر نوع — اِس راز کے اندر بہت سارے سربستہ راز ہیں۔

ہو سکتا ہے، اِس راز کے اندر وقت کے فاصلے سمیٹنے والا راز بھی ہو،    کہ آج کی دنیا میں رہنے والا، ہو سکتا ہے  کل کی دنیا میں بھی موجود ہو۔ کل تو   گزر گیا اور کل میں موجود ہونا کیا بات ہوئی؟ جس طرح آج کا طالب بیان کرے کہ وہ کسی  اور محفل میں ہے —  وہ محفل جس کو نظر سے اوجھل ہوئے صدیاں بیت گئی ہیں۔ہو سکتا ہے آج     کا طالب کل کے محبوب کے دَر پر زندہ ہو۔ اِس راز میں ہو سکتا ہے کہ ہر اِسم اپنے جسم کے ساتھ نظر آ سکے —  اور جو لوگ راز آشنا ہوں، وہ روز ِاَزل اور روزِ اَبد کو ایک ہی لمحہ سمجھیں — ایک ہی لمحہ — جو پھیلے تو صدیوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ اِس لمحے کی دریافت ہی راز کی دریافت ہے۔ اِس راز کا اظہار  ابھی سربستہ راز ہے۔ یہ وہ واقعہ ہے، جو ہے — لیکن ابھی رونما نہیں ہوا۔ یہ وہ روشن سورج ہے جو طلوع ہونے والا ہے، اور یہ سورج ہمیشہ طلوع ہی ہونے والا ہوتا ہے، اور — کبھی طلوع نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے راز دریافت کیا، انہوں نے ہی راز چھپایا۔

یہ راز ایک رازِ قدیم ہوتے ہوئے ایک جدید اظہار سے گریزاں ہے۔ یہ ایک پُراَسرار گہرائی ہے، جو اِس میں اترتا ہے، وہ اترتا ہی چلا جاتا ہے۔ جو لوگ راز دریافت کرنے گئے، وہ اپنے سفر سے واپس نہیں آئے — لیکن یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ جب اُس نے انسان کو بیان کا علم دے دیا  تو اَب کسی بات کو مخفی رکھنے کا کیا جواز؟ راز کو کھول دیا جائے تو بہتر ہے— لیکن راز کو راز ہی رہنے دیا جائے تو شاید اِس کا اظہار آسان ہو جائے۔ خاموشی بہت بڑا راز ہے۔ اِس راز کو سنا جا سکتا ہے۔ زبان وہ بات کہہ ہی نہیں سکتی  جو سکوت سے بیان ہوتی ہے۔

 جہاں مَیں ہوں، وہاں یہی کچھ ہے۔ یہ سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں۔ جہاں ہونا، نہ ہونا  ہوتا رہتا ہے۔ جہاں منظر بدلتے رہتے ہیں۔ یہی زندگی ہے، اور یہ زندگی موت سے دامن بچا کر نکل جاتی ہے۔ پھر بھی اِس راز  کو مخفی ہی رہنا چاہیے۔ یہ   راز کُھل گیا تو کوئی نیا ہی گُل کھِل جائے گا۔ انتظار میں زندہ رہنا زندگی ہے۔ مَیں زندگی میں ہوں اس لیے جہاں مَیں ہوں، وہاں زندگی ہے، حیات ہے اور راز کے اظہار کا انتظار ہے۔

Pages: 1 2 3 4