ہم اپنی چاہتوں میں زندہ رہتے ہیں۔ محبوب ہماری زندگی ہے۔ محبوب کے ہونے سے ہم زندہ ہیں، محبوب کے مر جانے سے ہم مر جاتے ہیں — لیکن نہیں!— محبوب نہیں مرتا، کیونکہ محبوب کی ذات یاد بن جاتی ہے اور اپنے طالب کے دل میں رہتی ہے، گویا ہم محبوب کے دَم سے زندہ ہیں اور محبوب ہمارے دَم سے — وہ ہمارا مذکور ہے۔ وہ ہمارے اِحساس میں ہے۔ ہماری یاد میں ہے۔ ہمارے پاس ہی ہے۔
پھر مَیں سوچتا ہوں، یہ جو سب بزرگ رخصت ہو چکے ہیں۔ یہ ہماری یاد میں ہیں، ہمارے احساس میں ہیں۔ پھر یہ زندہ ہیں کیونکہ یہ زندگی میں رہتے ہیں۔ زندگی ہم ہیں اور یہ ہم میں ہیں۔ ہم جس کی محبّت میں ہیں، وہ ہم میں موجود ہے۔ یہاں مَیں یہ بھی سوچتا ہوں کہ جن لوگوں میں جتنی بڑی محبّت ہے، وہ اتنے بڑے زندہ ہیں۔
سب سے بڑی محبّت اللہ کے محبوبؐ سے ہو سکتی ہے۔ یہ محبّت رکھنے والا فنا و بقا سے اگلی منزل کا مسافر ہے۔ یہ وادیٔ تجلّیات کا رہبر ہے۔
بہرحال ایک عجب راز ہے کہ یہ سب راز ہے — اور مَیں اس راز کے پردے میں ! اِس پردے کو اٹھانا بس کی بات نہیں۔ مَیں سوچتا ہوں کہ میری نگاہ جس چیز کو دیکھتی ہے، وہ چیز میرا علم بن جاتی ہے، میری یاد بن جاتی ہے، میری نفرت اور محبّت بن جاتی ہے — گویا مَیں دُور تک پھیلا ہوا سلسلہ ہوں۔ مَیں حاصل اور محرومیوں سے آزاد ہو کر سوچتا ہوں کہ اِس راز کی چابی کیا ہے؟ یہ کیا وجہ ہے کہ ایک آدمی پہلی دفعہ ملتا ہے اور ہم سوچنے لگ جاتے ہیں کہ ہم اِسے پہلی بار سے پہلے بھی مل چکے ہیں اور یہ بھی عجب بات ہے کہ کچھ لوگ ہمارے قریب رہتے ہیں، ہمیں نظر آتے ہیں لیکن ہمیں محسوس نہیں ہوتے۔
میرے لیے بے شمار لوگوں کا ہونا،نہ ہونا برابر ہے۔ کبھی کبھی مَیں اخبار کے اخبار پڑھ جاتا ہوں اور اِن میں کبھی کوئی خبر نظر نہیں آتی۔ مَیں جس کو سننا چاہتا ہوں وہ بولتا ہی نہیں ، جسے دیکھنا چاہتا ہوں وہ نظر ہی نہیں آتا، جس کا ثبوت نہیں اُس کو مانتا ہوں، جس کو دیکھا ہی نہیں اُس کی محبّت میں سرشار ہوں۔ مَیں کہاں کہاں سے آیا ہوں؟ مَیں کن اَجزاء سے مرتّب ہوا ہوں؟ کسی اور کا عمل میرا علم بن جاتا ہے اور کسی اور کا علم میرا عمل بن جاتا ہے۔ کسی اور کی صورت میری محبّت بن جاتی ہے اور کسی اور کا چہرہ میرے لیے نفرت۔ اکثر اوقات میری کسی خطا کے بغیر میری سزا بن جاتی ہے، اور اکثر و بیشتر میری خطا مجھے دَرِ عطا پر جھکا دیتی ہے۔