جب اِنسان کو معلوم ہو جائے کہ علم حاصل کرتے کرتے وہ جہالت تک پہنچ چکا ہے، تو اُسے اپنی محنتوں کو عزت سے دیکھنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے اور وہ زندہ رہنے کے استحقاق کو مذاق سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ علم حاصل نہیں ہو سکتا اور زندگی سے محروم ہونا پڑتا ہے، توایسی کوشش کا کیا انجام—؟
انسان حاصل کی تمنّا میں لاحاصل کے پیچھے دوڑتا ہے اُس بچے کی طرح جو تتلیاں پکڑنے کے مشغلے میں گھر سے بہت دُور نکل جاتا ہے — نہ تتلیاں ملتی ہیں، نہ واپسی کا راستہ۔ ایسی آرزو کا کیا انجام اور ایسی زندگی کا کیا جواز؟
جب اِنسان پر ایسا وقت آ جائے کہ اُسے چشمۂ آبِ حیات نظر آئے لیکن اُس کی رسائی نہ ہو، وہ بدستور پیاس میں مبتلا رہے، تو اسے سانس لینے کا کیا حق باقی رہ جاتا ہے؟ وہ جانتا ہے کہ سب کچھ موجود ہے لیکن اس کے لیے ہر اِمکان کے باوجود کچھ بھی نہیں، تو وہ اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی بے معنی کوشش سے کیوں تکلیف دے گا؟
جب انسان کی زندگی اُس بُڑھیا کی طرح ہو جائے جس نے محنتوں کے ساتھ سُوت کاتا اور آخر میں اُسے اُلجھا دیا، تو وہ آدمی کیا زندہ رہے گا! عمر کی کمائی اُس کے ہاتھ سے یوں نکل جائے جیسے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جاتے ہیں، تو وہ کیا کرے؟ کمائیاں ساتھ نہ جائیں اور ساتھ لے جانے کے لیے کمائی کوئی نہ ہو، تو ایسی صورت میں زندہ رہنا بھی کیا زندہ رہنا ہے!
جب انسان کے اعضاء و جوارح اُس سے باغی ہو جائیں — اُس کے اپنے، اپنے نہ رہیں — اُس کے معاون، اُس کے اپنے معاون، اُس کے خلاف گواہ بن جائیں اور وہ دیکھتا رہ جائے — اُسے محسوس ہو کہ اُس کا اپنا وجود بھی اُس کے اپنے کام کا نہ تھا،تو وہ کیا محسوس کرے گا؟ اُسے اِس چیز کا احساس ہو کہ جو کرنا چاہیے تھا، اُس نے نہیں کیا اور جو کچھ نہیں کرنا چاہیے تھا، وہ کچھ اُس نے کیا، تو اَب وہ کس اُمّید پرجینے کی تمنا کرے —؟
جو کچھ حاصل کیا گیا، یہی اُس کے اپنے خلاف گواہی ہے۔ اب اپنے حاصل سے نجات پانا بھی ممکن نہیں، بھاگنا بھی ممکن نہیں،ٹھہرنا بھی ممکن نہیں — ایک ایسے انسان کی طرح جس کے وجود کے ساتھ ایک ٹائم بم بندھا ہوا ہے اور وہ خطرے سے ڈر کر بھاگتا جا رہا ہے۔ جس خطرے سے وہ نجات چاہتا ہے، وہ اُس کے ساتھ ہی بندھا ہے۔خطرہ اندر ہو تو باہر دوڑنا کس کام کا؟ اپنے اندر کے خطرے سے اندر کی دَوڑ بچا سکتی ہے۔ اندر کی دَوڑ کیا ہے؟ اِس بات کی سمجھ نہ آئے تو جینے کا کیا جواز—؟