اگر آپ کی نگاہ بلند ہونے سے قاصر ہے، تو اپنے پاؤں کے پاس دیکھو — کوئی نہ کوئی چیز آپ کی توجہ کی محتاج ہو گی۔کچھ نہیں تو محبّت کا مارا ہوا کُتّا ہی آپ کے لیے زندہ رہنے کا جواز مہیا کرے گا۔
یہ کائنات آپ کی توجہ کی محتاج ہے۔ کائنات سے توجہ طلب کرنا اتنا اہم نہیں ،جتنا اِس کو توجہ دینا — اور یہی جینے کا جواز ہے۔ دنیا زندگی کے جواز سے مایوس ہو کر، زندگی کے جواز کی رائیگاں تلاش میں ہے۔ آپ، لوگوں کی اِس تلاش کو اپنی توجہ سے سرفراز کرو۔ دنیا توجہ مانگ رہی ہے۔ آپ کا گرد و پیش، آپ کی نگاہِ توجہ کا طلب گار ہے۔
انسان پر کبھی راستہ بند نہیں ہوتا۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہر دیوار کے اندر دروازہ ہے جس میں سے مسافر گزرتے رہتے ہیں۔ مایوسیوں کی دیواروں میں اُس کی رحمت اُمّید کے دروازے کھولتی رہتی ہے۔ انتظار ترک نہ کیا جائے، رحمت ہو گی — اُمّید کا چراغ جلے گا۔ وہ وقت جس کا انتظار ہے، آئے گا، بلکہ وہ وقت آ ہی گیا۔ مایوسیوں کے بادل چھٹ جائیں گے، چراغاں ہو گا۔ انسان، انسان کے قریب آ جائے گا۔ پتھر موم ہو جائے گا۔ دل محبّت سے معمور ہو جائیں گے۔ پیشانیاں سجدوں سے سرفراز ہو جائیں گی۔ زندگی کو زندہ رہنے کا استحقاق مل جائے گا۔ انسان مایوس نہ ہو۔ کشتیاں جلا دی جائیں توکامیابی قریب آ جاتی ہے۔ کامیابی یہی ہے کہ زندگی کو وثوق مل جائے۔ آرزوئیں پوری نہ ہوں تو بے آرزو رہنے کی آرزو پیدا کر دی جائے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔
کامیابی کسی نقطے کا نام نہیں، یہ مزاج کا نام ہے۔ بڑے بڑے فاتحین جنگیں ہارنے کے بعد بھی فاتحین ہی رہے۔ ہمارے پاس مثال موجود ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے فتحِ مبین قرار دیا — کربلا کی شکست،فتح کی بشارت ہے۔ ہم جسے تاریکی سمجھ رہے ہیں، یہی صبحِ کاذب تو صبحِ صادق کا آغاز ہے۔ چلتے چلیں، منزلیں خود ہی سلام کریں گی۔ دنیا کے خلاف فریاد نہ کریں، کوشش کریں کہ کوئی آپ کے خلاف فریاد نہ کرے۔ دوسروں کو خوش کریں، خوشی خود ہی مل جائے گی — اور یہی جینے کاجواز ہے۔