اگر انسان کے پاس نیکی کے نام پر اکٹھا کیا ہوا بلکہ لوٹا ہوا مال موجود ہو، اور اُس سے نیکی بھی سرزد نہ ہو سکے،اِس مال کو دیکھ کر اُسے جینے سے وحشت پیدا ہو جائے گی۔ اُس آدمی کے لیے آنے والا زمانہ گزرے ہوئے زمانے سے زیادہ خوفناک ہو گا۔ اُس کی رات تاریک سے تاریک تر ہوتی جائے گی — وہ اپنے آپ کو زندہ رہنے کے قابل کیسے سمجھے گا—؟
اگر انسان ایسی حالت میں پہنچ جائے، اگر اُسے تنگی ٔ حالات اور تنگیِ خیالات کا اِحساس ہو، اگر اُسے ہر طرف تاریکیاں نظر آئیں، اگر اُسے زندہ رہنے کا جواز نظر نہ آئے تو بھی اُسے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ہم زندہ رہنے کے لیے جو جواز تلاش کرتے ہیں، اُس کے علاوہ بھی زندگی کے جواز موجود ہیں۔ زندگی عطا فرمانے والے نے یہ انعام بے جواز نہیں عطا فرمایا۔ اُس کا کوئی عمل بے جواز نہیں۔ اُس نے کوئی تخلیق عبث نہیں فرمائی۔ اُس کی کوئی بات بے معنی نہیں ہو سکتی۔ انسان کو مایوسیوں کے گھپ اندھیروں میں بھی ایک روشنی کا چراغ، جو ہمیشہ روشن رہتا ہے، نظر آ سکتا ہے۔ یہ چراغ پیشانی کے اندر ہوتا ہے اور یہ سجدے میں نظر آتا ہے۔ بے بس انسان کا سجدہ ہی بس، بے بسی کا علاج ہے۔ یہی اندھیروں کا سورج ہے۔ یہی نشانِ منزل ہے اور یہی رفیق ِ طریق ہے۔
اِرشاد ہے: ’’پھر اِس کے بعدتمہارے دل سخت ہو گئے جیسے کہ وہ پتھر ہوں، بلکہ اِن سے بھی زیادہ سخت۔ بعض پتھرتو ایسے ہیں کہ اُن سے نہریں جاری ہیں“۔ گویا پتھر بھی پتھر نہیں رہتا، اگر اُس میں سے نہر جاری ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر طرف پتھر دل انسان، پتھرائی ہوئی آنکھوں والے، پتھر کے چہروں کے ساتھ نظر آتے ہیں، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اِن پتھروں کے اندر سے نہریں جاری ہیں۔ بے فکر انسان بھی بڑے فکروں میں مبتلا ہیں۔ اپنا دل زندہ کرو، ہر طرف زندگی نظر آئے گی۔
زندگی کے جواز تلاش نہیں کیے جاتے، صرف زندہ رہا جاتا ہے۔ زندگی گزارتے چلے جاؤ، جواز مل جائے گا۔ اگر آپ کو کسی طرف سے کوئی محبّت نہیں ملی، تو مایوس نہ ہوں۔ آپ خود ہی کسی سے محبّت کرو۔ کوئی باوفا نہ ملے، تو کسی بے وفا سے ہی سہی۔ محبّت کرنے والا زندگی کو جواز عطا فرماتا ہے۔ زندگی نے آپ کو اپنا جواز نہیں دینا، بلکہ آپ نے زندگی کو زندہ رہنے کے لیے جواز دینا ہے۔ آپ کو کوئی انسان نہ نظر آئے تو کسی پودے سے پیار کرو،اُس کی پرورش کرو،اسے آندھیوں سے بچاؤ، طوفانوں سے بچاؤ،وحوش و طیور سے بچاؤ، تیز دھوپ سے بچاؤ، زیادہ بارشوں سے بچاؤ — اُس کو پالو، پروان چڑھاؤ۔ پھل کھانے والے کوئی اور ہوں، تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں۔ کچھ بھی نہیں تو یہی درخت کسی مسافر کو دو گھڑی سایہ ہی عطا کرے گا، کچھ نہیں تو اس کی لکڑی کسی غریب کی سردی گزارنے کے کام آئے گی۔ آپ کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ آپ کو زندہ رہنے کا جواز اور ثواب مل جائے گا۔ کچھ نہ ہو سکے تو کسی پتھر کو صیقل کرو،پالش کرو، اُس پر محنت کرو — پتھر کا آئینہ بن جائے گا۔ اِس آئینے کے اندر زندگی کا جواز لکھا ہوا ہو گا۔