خاموش اِنسان خاموش پانی کی طرح گہرے ہوتے ہیں— خاموشی خود ایک راز ہے اور ہر صاحب ِ اَسرارخاموش رہنا پسند کرتا ہے۔ خاموشی دانا کا زیور ہے اور احمق کا بھرم۔ خاموشی میں عافیت ہے۔ اگر ہم زبان کی پھیلائی ہوئی مصیبتوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ خاموشی میں کتنی راحت ہے۔ زیادہ بولنے والا اِنسان مجبور ہو جاتا ہے کہ سچ اور جھوٹ کو ملا کر بولے۔ اُس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ سوچ سکے کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔

فطرت کے عظیم شہکار ایک مستقل اورمسلسل سکوت میں ہیں۔ پہاڑوں کے عظیم و وسیع سلسلے خاموش ہیں۔ اِس خاموشی میں کتنی داستانیں پنہاں ہیں۔ اِس سکوت میں کتنی ہیبت ہے۔ اِس سنّاٹے میں کتنے راز ہیں۔پہاڑ اپنے پہلو میں کتنے گنجینے رکھتے ہیں،کوئی کیا جانے،  کوئی کیا سمجھے۔ پہاڑوں کے اندر خزانے ہیں، پہاڑوں کے اوپر خزانے ہیں۔ پہاڑوں کے پتھر بھی عجب راز ہیں — سب خاموش،سب ساکت۔ کبھی کبھی اِس مہیب سنّاٹے میں ہوائیں چیختی ہیں۔ ہوا کی آواز پہاڑوں کی خاموشی کو اور زیادہ واضح کر دیتی ہے۔

  پہاڑوں سے گرنے والی آبشاریں اور اُن کی آواز خاموشی کو زیادہ معنی خیز بنا دیتی ہے۔ خاموشی کا اَثر اُس وقت گہرا ہو جاتا ہے ،جب چھوٹی سی آواز گونج پیدا کرے۔ پہاڑوں میں جب آوازیں گونجتی ہیں،سنّاٹے مزید مہیب ہو جاتے ہیں۔ پہاڑوں کی خاموشی فطرت کی خاموشی ہے۔ اہلِ دِل حضرات پہاڑوں میں اپنا مسکن بناتے ہیں تو اِس میں یہی راز ہے کہ وہ فطرت کے قریب ہونا چاہتے ہیں اور فطرت بالعموم خاموشی اختیار کرتی ہے۔

ہماری زِندگی کا بیشتر حصّہ خاموشی میں گزرتا ہے۔ دِن ہنگاموں اور آوازوں کی نذر ہوتا ہے اور رات خاموشی کی جلوہ گری ہوتی ہے۔ محنت سے تھکے ہوئے اِنسان خاموش ہو جاتے ہیں—  پرند، چرند، سب خاموش۔ گرمیٔ بازار ختم ہو جاتی ہے اور بند دُکانیں یوں نظرآتی  ہیں جیسے بے ربط آوازوں کے لبوں پر تالے پڑے ہوں۔ آواز  اِنسان کو دُوسروں سے متعلق کرتی ہے اور خاموشی اِنسان کو اپنے آپ سے متعارف کرتی ہے۔ دُوسروں کو قائل کرنے کی کوششیں آواز کے کرشمے ہیں۔ خود کو مطمئن کرنا خاموشی کا اعجاز ہے۔ زِندگی ایک ایسا راز ہے جو اپنے جاننے والوں کو بھی راز بنا دیتا ہے۔ زِندگی کا دریا خاموشی سے رَواں دَواں ہے۔ اِس میں آوازوں کی موجودگی اِس کی خاموشی کو مزید  گہرا کر دیتی ہے۔ زِندگی سراپا اور سربستہ راز ہے اور راز ہمیشہ خاموش ہوتا ہے۔ اگر خاموش نہ ہو تو راز نہیں رہتا۔ کہتے ہیں ایک شخص زِندگی کے راز کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ اُس نے بہت سے لوگوں سے رازِ ہستی دریافت کیا۔ کسی نے کچھ نہ بتایا۔ وہ بہت گھبرایا، بہت پریشان ہُوا، چیخا چلّایا۔ آخر کار وہ کچھ مایوس سا ہو کر خاموش ہو گیا۔ ایک خاموش رات اُسے اپنے اندر سے آواز آئی: ’’نادان! لوگوں کے دَروازے کھٹکھٹانے سے رازِ ہستی کیا ملے گا۔ تُو نے اپنے دِل کے دروازے پر بھی دستک دی ہوتی“۔  اُس نے اپنے اندر سے آنے والی آواز کو سنا، سوچا، غور کیا۔ اُسے معلوم ہوا۔  جو معلوم ہوا،سو ہوا —اور وہ خاموش ہو گیا۔

Pages: 1 2 3