یہ راز عجب راز ہے— اِنسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے — راز کی تلاش کسی بیرونی سفر کا نام نہیں۔ یہ راز اندر کا سفر ہے۔ اندر کے اِنسان سے راز ملتا ہے اور خاموشی میں ملتا ہے اور ملنے کے بعد خاموش کر دیتا ہے— ایسی خاموشی جس پر گویائی نثار ہو۔انسان کا اصل ساتھی،اصل رہبر اُس کا اپنا ذوق ہے۔ اُس کی اصل منزل اُس کا اپنا آپ ہے۔ اپنے من میں ڈوبنے کی دیر ہے، گوہرِ مُرادمل جاتا ہے۔ آواز حجاب ہے،خاموشی کا شف ِ راز ہے۔ باطن کا سفر، اندرون بینی کا سفر، من کی دُنیا کا سفر، دِل کی گہرائیوں کا سفر، رازِ ہستی کا سفر، دِیدہ وَری کا سفر، چشمِ بینا کا سفر، حق بینی و حق یابی کا سفر— خاموشی کا سفر ہے۔
علم ُالبیان کے خلاف بات نہیں ہو رہی۔ جب راز دریافت کرنا ہو تو خاموشی ضروری ہے۔ اِس کے بعد اُس کا اپنا حکم ہے کہ اِنسان کو بولنے دے یا خاموش کر دے۔ ویسے اِنسان کی عافیت کے لیے خاموشی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ فطرت کے کرشمے خاموشی سے جلوہ آراء ہیں—سورج ہی کو لیں،اُس نے کبھی اپنی روشنی کے ثبوت میں کچھ دلائل نہیں دیے،بلکہ آفتاب خود ہی دلیل ِ آفتاب ہے۔ وہ خاموشی سے دُنیا کو روشنی دیتا ہے۔ کسی سے شکریے کے دو لفظ سننے کا بھی اِنتطار نہیں کرتا۔ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ سورج کا مذہب ہی روشنی ہے اور روشنی خاموش رہتی ہے۔ اِحسان ہمیشہ خاموش رہتا ہے۔ جتایا ہوا اِحسان ضائع ہو جاتا ہے۔ چاند خاموش ہے—کتنا خوبصورت، کتنا منوّر، کیسا روشن، کیسا راز، کیا کیا کرشمے ہیں۔ خاموشی میں کروڑوں ستارے ہیں— اپنی اپنی منزل پر گامزن — کوئی شور نہیں،کوئی ہنگامہ نہیں،کوئی تقریریں نہیں۔ ستارے بڑے پُراَسرار ہیں،چل رہے ہیں،اپنے اپنے مقرر شدہ مدار میں رَواں دَواں— خاموشی اور اِطمینان کے ساتھ۔ فطرت کے مناظر،فطرت کے جلوے، کرشمے— فطرت کی زبان— خاموشی کی زبان ہے۔
اِک تماشا ہے۔ سارا عالم تماشائی ہے۔ آسمان پر کرشمے ہیں۔ زمین پر جلوے ہیں۔ سب خاموش ہیں۔ صحرا کی وسعتیں—عظیم وسعتیں—خاموش ہیں۔ کتنا گہرا راز ہے۔ دُور تک پھیلے ہوئے صحرا، پیاسے صحرا، لب خشک ہیں لیکن لب بند ہیں—عجب داستانیں ہیں۔
اہل ِ دل حضرات صحرا کی یاد اور صحرا کی پیاس کے معنی جانتے ہیں۔ دشت ِ وحشت اور دشت ِ جنوں خاموش ہیں—مکمل سکوت—! سمندر خاموش ہے۔ گہرا ہے،بہت گہرا۔ خاموش ہے، بہت خاموش۔ بڑا راز،بڑا خاموش۔ سمندر میں طوفان ہیں،لہروں کا اِرتعاش ہے۔ بجا،لیکن سمندر خاموش ہے —بہت خاموش!