خالق کی بات ہم اِس لیے نہیں کر سکتے کہ وہ خالق ہے—اُس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ وہ بولتا ہے اپنے محبوبوں سے، اپنے پیغمبروں سے —اور یہ بولنا—عجب ہے۔ دنیا والوں کے لیے،دُنیا کے بنانے والا خاموش ہے اور اِس خاموشی کے باوجود اُس کے تذکرے ہیں، اُس کی باتیں ہیں، اُس کے چرچے ہیں، اُس کی پسنداور ناپسند کے بیانات ہیں۔ وہ خاموش ہے۔ وہ سب سے بڑا جلوہ ہے، سب سے بڑا راز ہے— اور سب سے زیادہ خاموش۔اُسے مانو تو خاموش، نہ مانو تو خاموش۔اُس کی عبادت کرو تو بھی خاموش۔ اُس سے بغاوت کرو تو بھی خاموش۔ خاموشی کو پیدا کرنے والا خود خاموش ہے۔ فرشتے خاموش ہیں، جِنّات خاموش ہیں۔
لیکن،اِنسان بولتا ہے اورمسلسل بولتا ہے۔ سچ نہ بول سکے تو جھوٹ بولتا ہے۔ ابہام بولتا ہے۔ اپنی ستائش میں بولتا ہے۔ فطرت کے خلاف بولتا ہے۔ خالق کا گلہ کرتا ہے۔ زِندگی کے کرب کی باتیں کرتا ہے۔ ہنگامے بولتا ہے۔ شاہی فرمان بولتا ہے۔ بغاوتیں بولتا ہے۔ کبھی بندہ ہو کر بولتا ہے، کبھی مولا ہو کر بولتا ہے۔ تنہائیوں میں بولتا ہے۔ کوئی سننے والا نہ ہوتو اپنے آپ سے بولتا ہے۔ خو د سوال کرتا ہے اور خود ہی جواب بولتا ہے۔ خود ہی ثواب بولتا ہے اور خود ہی عذاب بولتا ہے۔ کبھی ماضی بولتا ہے،کبھی مستقبل۔ اِنسان دانائی بولتا ہے، حماقت بولتا ہے۔ خاموش نہیں ہوتا،اِس لیے کہ خاموشی میں اُسے اپنے رُوبرو ہونا پڑتا ہے اور وہ اپنے رُوبرو نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا،لیکن یہ بات وہ کس طرح تسلیم کرے۔ وہ کیسے کہہ دے کہ وہ بیوقوف ہے،وہ ناآشنا ہے،وہ کچھ نہیں ہے۔ اُس کی ہستی، کیا ہستی ہے۔ اُس کی بات،کیا بات ہے۔ وہ اپنی لا علمی کا علم رکھتا ہے اور پھر بھی خاموش نہیں ہوتا۔ وہ اپنی جہالت سے آگاہ ہے اور پھر بھی خاموش نہیں ہوتا۔ اُسے خبر ہے کہ قبل اَز پیدائش خاموشی کے زمانے ہیں اور مابعد خاموشی ہے۔ اِس زندگی میں بھی خاموشی ہے۔ وہ سب سمجھتا ہے،لیکن خاموش ہونا اُس کے بس میں نہیں۔ اُسے غم ملے،تو زمانے کو سناتا ہے۔ اُسے خاموشی ملے،تو دنیا کو بتاتا ہے۔ اُسے بولنے اور صرف بولنے کا شوق ہے اور اُس کے لیے خاموشی اور صرف خاموشی ضروری ہے۔
اِنسان کو بولنے کا اِس قدر شوق ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی دُوسرے آدمی سے ہر وقت کچھ نہ کچھ کہہ رہا ہوتا ہے۔ الفاظ کے وسیع پھیلاؤ میں معانی مفقود ہوں تو بھی اِنسان بولے جاتا ہے اور بولتے بولتے وہ دِن قریب آجاتا ہےجب اِنسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے صرف جھوٹ بولا۔ اُس نے بے معنی الفاظ بولے۔ اُس نے بے وجہ آواز استعمال کی۔ اُس نے اپنے اصل ساتھی سے کوئی بات نہ کی،کوئی بات نہ پوچھی— یہ ساتھی اُس کا باطن ہے—خاموش ساتھی خاموشی سے ملتا ہے۔ کاش! ہم کبھی خاموشی کے ساتھ اپنے رُوبرو ہوتے !!