اگر اِینٹوں میں رَبط نہ ہو تو آندھی تو کُجا،دِیوار کو اپنے ہی بوجھ سےگر جانے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اندرُونی کمزوری کو بیرونی خطرات ہمیشہ دَرپیش رہتے ہیں۔ شکستہ جہاز کو کوئی ہوا بھی توراس نہیں آتی۔ بیمار وجود کے لیے ہر موسم خطرے کا موسم ہے۔ قوّتِ مدافعت نہ رہےتو بیماری کا شائبہ بھی زِندگی کے لیے خطرہ ہے۔
جب قوموں کے اندر وَحدت نہ رہے تو اِس اِنتشار کی سزا ایک نا معلوم خطرے کی شکل میں موجود رہتی ہے۔ مایوس اِنسان پر خطرات کی وبا کا عذاب نازل کیا جاتا ہے۔
آج ہمارے گرد وپیش خطرات ہیں۔ ہمارے یسار و یمین میں خطرہ ہے۔ ہمارے دروازے پر خطرہ دستک دے رہا ہے۔ ہم کرب سے گزر رہے ہیں۔ مکینوں کو اپنے مکان میں سکون نہیں۔ کہیں نہ کہیں،کسی نہ کسی صورت میں کوئی نہ کوئی خطرہ موجود ہے۔
آج کی دُنیا کو ترقی کے حوالے سے تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور پس ماندہ۔ ترقی یافتہ وہ ممالک ہیں جو خوف پیدا کرتے ہیں۔ ترقی پذیر وہ ممالک ہیں جو خوف زدہ رہنے پر مجبور ہیں اور پس ماندہ وہ ممالک ہیں جنہیں خطرے کے اِحساس سے بھی آشنائی نہیں۔ جنہیں زندگی کا اِحساس نہ ہو،اُنہیں موت کا کیا خوف!
خوف اور خطرہ صرف ترقی پذیر ممالک کے لیے ہے۔ ہم ترقی پذیر ہیں۔ ہم خوف میں ہیں۔ ہمارے مغرب میں ترقی یافتہ رُوس ہے جو خوف پیدا کرتا ہے۔ مشرق میں ایک ایسا ملک ہے جو ترقی پذیر ہونے کے باوجود ترقی یافتہ اَنداز رکھتا ہے۔ بھارت خود خوف میں ہے،لیکن خوف پیدا کرتا ہے۔
ترقی کا دوسرا نام خوف پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ بھارت کے پاس یہ صلاحیت ہے۔ اُس کی نگاہ میں آج بھی یہ پاکستان خاربن کر کھٹکتا ہے۔ اِس کی وجوہات کچھ بھی ہوں،نتیجہ یہ ہے کہ ہم خطرے میں ہیں۔
دوست کمزور ہو جائیں تو دشمن خود بخود طاقتور ہو جاتا ہے۔ اندرُونی اِنتشار،بیرونی یلغار کی راہ ہموار کرتا ہے۔