ہم ایک ایسے خطرے میں ہیں جو محسوس تو ہوتا ہے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ خطرہ کس چیز سے ہے۔
کیا ہم پر خدانخواستہ کوئی نئی اُفتاد پڑنے والی ہے؟
کیا ہم اپنے اعمال کی عبرت کے خوف میں ہیں؟
کیا ہم اپنے راہنماؤں سے مایوس ہو چکے ہیں؟
کیا ہم گردشِ حالات کی زد میں آچکے ہیں؟
کیا ہم سے زندگی کے عظیم مقاصد چھن چکے ہیں؟
کیا ہم اعتماد سے محروم ہو چکے ہیں؟
کیا ہمیں اپنے آپ پر بھی اعتماد نہیں؟
کیا ہمیں جان کا خطرہ ہے، ایمان کا خطرہ ہے، عزت کا خطرہ ہے، ملکی سلامتی کا خطرہ ہے، ملّی وَحدت کا خطرہ ہے؟
کیا خطرہ ہمارے اندر ہے یا باہر ہے؟
کیا آسمان گرنے والا ہے؟
کیا زمین پھٹنے والی ہے؟
کیا اِنسان کے گناہوں کا بوجھ اِتنا بڑھ چکا ہے کہ کسی عذاب کا نازل ہونا ناگزیر ہے؟
کیا ہماری تاریخ ختم ہونے والی ہے؟
کیا ہم ایک سطحی اور نقلی زِندگی گزار رہے ہیں؟
کیا ہمارے افکار پریشان ہیں؟
کیا ہمارا کردار ختم ہو چکا ہے؟
کیا ہم سے حُسنِ عمل چھن گیا ہے؟
کیا ہم دُعاؤں کا آسرا بھول چکے ہیں؟ ہم قدم قدم پر خطرے میں ہیں؟
کیا ہمارا عمل بیان اور صرف بیان ہے؟
کیا ہم اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں؟
آخر ہم نے کیا کِیا ہے کہ ہم خطرے میں ہیں؟
یہ سب سوال ہی سوال ہیں اور خطرہ یہ ہے کہ جواب نہیں ہے۔ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ ہم پچھلے چالیس سال سے یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم نے یہ مُلک کیوں بنایا۔ ہمیں اِتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ہم نے یہ ملک حکمرانوں کے لیے بنایا ہے۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ اب حکمران ہم میں سے ہی ہیں۔ مزاج—! حکمرانوں کے مزاج نہیں دیکھا کرتے ،دیکھنے والی بات صرف یہ ہے کہ محکوم کی حالت کیا ہے۔ محکوم اگر مسلسل مظلوم اور محروم ہو،تو حکمرانوں کے ایمان کا کیا تذکرہ؟ محکوم مظلوم ہو،تو حکمران کو کیا کہتے ہیں؟ آج پاکستان میں الحمدُ للہ! ہم سب مسلمان ہیں۔ چور کون ہے؟ ڈاکہ کس نے ڈالا؟ کس نے کس کی عزت کو تباہ کِیا؟ مسلمانوں کے عظیم ملک میں کسی غریب پہ کیا بیتی؟ کون بتائے؟ کیا اللہ صرف طاقتور کا ساتھ دیتا ہے؟ کیا ہم لوگ ایک دوسرے کی پہچان سے محروم ہو گئے ہیں؟ کیا ہم کسی عاقبت کے قائل نہیں رہے؟