ہم کروڑوں انسان،سارے کے سارے تنہا— افراتفری، ایک دوسرے پر الزام تراشی، ایک دوسرے کے ساتھ نااِنصافی، وعدہ شکنی، مطلب پرستی، ہوس پرستی، زَرپرستی، منصب پرستی اورظاہر پرستی—خطرہ تو ضرور ہو گا۔

 مظلوم کی بد دُعا خطرہ پیدا کرتی ہے۔ محروم کی آہ خطرہ پیدا کرتی ہے۔ یتیم کی فریاد پانی میں آگ لگا دیتی ہے۔

 جس بستی سے حق والا محروم ہو کر نکلے ،وہ بستی ویران ہو جاتی ہے!

 آج ہمیں سوچنا پڑے گا کہ آخر ہم کس طرف کو جا رہے ہیں۔ ہم کہاں سے چلے تھے۔ ہمارا حال کیا ہے۔ ہمارے اندیشے اِتنے بے سبب بھی نہیں۔

 ہم ایک دفعہ پہلے تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہم ایک دفعہ پہلے بھی کٹ چکے ہیں۔ ہمارے پاس آج بھی حالات اچھے نہیں اور دشمن پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔ ایک دفعہ ہونے والا حادثہ،کیا دُوسری دفعہ نہیں ہو سکتا؟ خوف تو ہو گا!

                لیکن،نہیں۔ بات اِتنی خطرناک بھی نہیں۔ دامن ِ اعمال خالی ہوتو   ہو، دامن ِ رحمت تو بھرا ہوا ہے۔ ہمارا سہارا ہمارے اعمال میں نہیں،اُس کی رحمت میں ہے۔ رحمت کا کام ہی یہ ہے کہ محروم کو حق سے سِوا دیتی ہے۔ وہ دینے والا ہے۔ جب چاہے ،جسے چاہے،جو چاہے ،دے دے۔ ہماری بقا صرف ہماری ہی بقا نہیں،اُس کے نام کی بھی عظمت ہے۔

                جب ہم غلام تھےتو ہم نے ہندوستان میں اپنی آزادی کو حاصل کِیا۔ ایک نیا ملک بنایا۔ آج تو ہم آزاد ہیں۔ ہم مُلک کا تحفظ کیسے نہیں کریں گے۔

                ہم دشمن سے ڈرنے والے نہیں۔ ہمیں اگر کبھی خوف ہوا تو صرف دوستوں کا— اپنوں سے ڈر ہے۔ اپنے ،اپنے ہو جائیں تو بیگانے کا کیا خوف!

                اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اِتحاد پیدا کریں۔ اپنے اعمال اور اپنے مال میں سب کو شریک کریں۔ دُوسروں کی عزت کریں تاکہ ہماری عزت محفوظ ہو۔ دشمن کوئی حرکت کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچے گا۔ ہمیں اپنی حفاظت کے لیے کسی سوچ کی ضرورت نہیں۔ ضرورت صرف وَحدت اور صداقت کی ہے۔ ہمیں بے راہ زندگی کا خوف ہونا چاہیے۔ اُس کی راہ میں مرنا ہمارے لیے خوف کا نہیں،شوق کا باعث ہے۔ ویسے اُس کی راہ،حق اور حقیقت کا راستہ ہے—بھائی کے لیے وہ چیز پسند کرنے کا راستہ،جو اپنے لیے پسند ہو۔ انصاف قائم ہو جائے،خطرہ ٹل جائے گا۔

 سینے میں ایمان بیدار ہو جائے،خوف نکل جائے گا۔ یقین زندہ ہو جائے،موت ختم ہو جائے گی۔ دولت کی محبّت کم کر دو،اندیشے کم ہو جائیں گے۔ سیاست سے جھوٹ نکل جائے،دِل سے خوف نکل جائے گا۔

  لالچ خوف پیدا کرتا ہے۔ اندرُونی اِنتشار،بیرونی سرحدوں پر خطرے کی شکل میں نظر آتا ہے۔ خطرہ بہر حال اندر ہے ،باہر نہیں!!

Pages: 1 2 3