کہانی ختم ہو گئی،لیکن کہانی کیسے ختم ہو سکتی ہے۔ کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ حقائق ختم ہو جائیں تو بھی کہانیاں جاری رہتی ہیں۔
ایک دِن وہ چاروں افراد آپس میں مل بیٹھ کر اپنی بستی کے بارے میں غور کر رہے تھے، اُس کی ترقی کے منصوبے بنا رہے تھے کہ اچانک ڈراما شروع ہو گیا،بلکہ ڈراپ سین شروع ہو گیا۔
اندھا بولا: ”صاحبان! میرے عزیز ہم وطنو! بلکہ غم وطنو! مَیں دیکھ رہا ہوں کہ دُشمن ہماری طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ ہم خطرے میں ہیں۔ غنیم آرہا ہے“۔
بہرا تائید کرتے ہوئے بولا: ”ہاں یہ درُست ہے۔ مَیں دُشمن کے ٹینکوں کی آواز سن رہا ہوں۔ اُس کے گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دے رہی ہیں“۔
ننگے نے فوراً اعلان کر دیا: ”ہاں ہاں! دشمن کیوں نہیں آئے گا۔ اُسے میرے قیمتی لباس کی آرزو تھی۔ بڑی دیر سے دُشمن موقع کی تلاش میں تھا“۔