معمولی باتیں بڑے غیرمعمو لی نتائج برآمد کرتی ہیں۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی بات اِتنی بڑی بات ہوتی ہے کہ اُسے دانائی اور رعنائیِ خیال کی اِنتہا سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر چھوٹی بات کو چھوٹا نہ سمجھا جائے تو کوئی بڑی بات بڑی نہ رہ جائے۔
چھوٹے کاموں کو بڑی احتیاط سے کرنے والا اِنسان کسی بڑے کام سے کبھی مرعوب نہیں ہوتا۔ چھوٹے اِنسانوں سے محبّت کرنے والا،اُن کا ادب کرنے والا،اُن سے برابر کا سلوک کرنے والا،کسی بڑے سے بڑے شہنشاہ سے نہیں ڈرتا۔ ”معمولی انسان“ سے محبّت غیرمعمولی اِنسان کا ڈر نکال دیتی ہے۔ ایک سجدہ حاصل ہو جائے،تو ہزار سجدوں سے نجات حاصل ہو
جاتی ہے۔
دُنیا کے عظیم اور غیرمعمو لی واقعات کی بنیاد میں اکثر اوقات معمولی اِتفاقات نظر آئیں گے۔ ایک اِنسان نے دُوسرے کو دیکھا۔ معمولی سی بات تھی۔ ایسے اکثر ہوتا رہتا تھا،مگر اِس دفعہ ایک اِنسان کو دُوسرے کے چہرے میں کچھ اور ہی نظر آیا۔ معمولی سی بات ہے، نظر کا ملنا اور پھر دل کا دھڑکنا،اور پھر کائنات کا رنگ ونُور میں ڈھل جانا۔ غرضیکہ بے شمار غیرمعمو لی واقعات پیدا ہو جاتے ہیں،فوجیں لڑ جاتی ہیں،تخت چھن جاتے ہیں،ملک آباد یا برباد ہوجاتے ہیں۔ آنکھیں کتنی ہی آنکھوں کو خون کے آنسو دے جاتی ہیں۔ قلوپطرہ کی ناک قدیم مصری اور یونانی تہذیب میں بڑے غیر معمولی نتیجے برآمد کرتی رہی ہے۔
معمولی سے پرندے ہُدہُد کی اطلاع سے ایک غیرمعمو لی ،عظیم پیغمبرحضرت سلیمانؑ کے دربار میں کتنے ہی غیرمعمو لی واقعات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اِرادہ ہی عمل بن جاتا ہے۔ خواہش اور حاصل میں فاصلے مٹ جاتے ہیں۔علم والے ایسے علم کا اظہار کرتے ہیں کہ دُور کا نظارہ اُڑتا ہوا پاس آجاتا ہے۔ ہُدہُد نے ہلچل مچا دی۔ معمولی نے غیر معمولی کی راہ دکھادی۔
ایک معمولی اِنسان جس کا نام ”دِھیدو “ تھا،ایک بستی میں ایک لڑکی سے ملا —گاؤں اور شہروں کی زندگی میں ایسے ہوتا ہی رہتا ہے۔ معمولی سی بات ہے،لیکن اِس معمولی واقعے کو ایک غیر معمولی شاعر مل گیا— وارث شاہؒ نے معمولی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ وارث شاہؒ کے اپنے عرفان نے ہیر رانجھے کے قصّے کو راہ ِسلوک بنا دیا۔ ہیر کو پَر لگ گئے،رانجھے کو رفعتِ خیال کے گھوڑے پر سوار کرا دیا گیا۔ شاعر نے حُسن ِ بیان کی وہ گُل کاریاں کی ہیں کہ بس یہ اُسی کا حصّہ ہے۔ جس طرح لوگ مثنوی کو ”قرآں دَر زبانِ پہلوی“ کہتے ہیں،اُسی طرح عشّاقِ وارث شاہؒ اِس کتاب کو قرآن کی طرح حفظ کرتے ہیں۔ اِس کی بڑے اہتمام سے” تلاوت“ کرتے ہیں۔ صحیح یا غلط،اِس سے بحث نہیں۔ بات یہ ہے کہ معمولی سے کتنا غیرمعمو لی نتیجہ نکلا۔ آج ہمارے سکالر ہیر رانجھا پر مقالے لکھتے ہیں، ڈاکٹریٹ کرتے ہیں— نہ ہیر ڈاکٹر، نہ رانجھا پروفیسر، نہ وارث شاہؒ صدرِ شعبہ— بس اُن پر مقالہ نگار ڈاکٹر۔ کتنے بڑے امکانات پیدا کیے ایک چھوٹے سے واقعہ نے کہ ”دِھیدو رانجھا“ گھر سے بھاگ گیا۔ بس وہ گھر سے نکل کے اَدب کے گھر میں جا پہنچا۔ عرفان کے گھر میں داخل ہو گیا۔ نصیب کی منزلوں کا سفیر ہوا۔آج وہ ایک بہت بڑی روحانی علامت ہے۔