غیرمعمو  لی لوگ معمولی باتوں سے ہی راز آشنا ہوتے ہیں۔ ایک آدمی نے جنازہ دیکھا۔ پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ اُس کے درباریوں نے کہا: ”جہاں پناہ! یہ جنازہ ہے،مرنے والے کا آخری سفر اور یہ ہر آدمی کے ساتھ ہوتا ہے“۔   گو تم بدھ نے کہا: ”ارے !یہ ہر آدمی کے ساتھ ہوتا ہے تو تم لوگ اتنے بے حِس کیوں ہو۔ آخری بات سے پہلے کوئی اور بات ضرور ہو گی۔ اُسے دریافت کرنا چاہیے“۔ وہ تخت چھوڑ کر جنگل کو نکل گیا۔ راز آشنا ہو گیا۔ اُس نے معمولی واقعہ سے غیرمعمولی بات حاصل کر لی۔

                ہمارے ہاں بھی بڑی معمولی باتیں ہو رہی ہیں۔ بس اِن کا غیرمعمو  لی نتیجہ سمجھنے والا ہی کوئی نہیں۔ اِسلام کے نفاذ میں معمولی سی تاخیر، جمہوریت کے معمولی سے قافلے، معمولی سی بد اعتمادیاں اور معمولی سی غفلتیں، افغانستان کے معمولی سے جہازوں کا معمول، قوم کے اندر معمولی سا انتشار— اور ایک معمولی سا تغافل—کہیں کسی غیرمعمو   لی واقعے کی نشاندہی نہ ہو۔ دوسرا کبوتر اُڑانے کی تاریخ نہ دہرائی جائے۔ معمولی باتوں کو معمولی نہ سمجھا جائے!!

Pages: 1 2 3