کیا فطرت اپنے غیرمعمو  لی واقعات کو معمولی تعارف سے شروع کرتی ہے؟ غالباً ایسے ہی ہے۔ ایک بچّے نے خواب دیکھا۔ باپ نے کہا : ”بیٹا! اپنا خواب بھائیوں کو نہ سنانا“۔  بھائی سُن گئے۔ بس پھر واقعات شروع ہو گئے۔ قرآن ِکریم میں اِس واقعے کو بہت ہی اَحسن کہا گیا۔ معمولی سی بات تھی —خواب، غیرمعمو  لی   نتیجہ—مصر کی بادشاہی، پیغمبری اور قرآن میں تذکرہ، اور دُنیا میں ایک عظیم مثال—حُسنِ یوسفؑ اور پھر علامت،برادرانِ یوسف ؑ— اِتنے اپنے اور اِتنے بیگانے!

                بہر حال یہ دنیا اکثر عظیم واقعات کے پس ِ پردہ ایک معمولی سا راز رکھتی ہے۔ وہ راز اَمرِاِلٰہی ہو سکتا ہے۔ کچھ بھی ہو،دیکھنے میں معمولی اور سمجھنے میں بڑاغیرمعمولی!

                تاریخِ ہند میں ایک کبوتر کے بعد دوسرے کبوتر کا اُڑنا حُسن ِ معصوم کی اَدائے دلفریب کے طور پر آج بھی تاریخ کے طالب علموں کے لیے لُطف کا باعث ہے۔ کچھ لوگ کبوتر کے اُڑنے کو علامت کے طور پر ہی لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،چلو ایک کبوتر تو اُڑا،سو اُڑا۔ خدا کے لیے دوسرا کبوتر ہاتھ سے نہ چھوڑ دینا،ورنہ تاریخ ختم ہو جائے گی۔

                دُنیا میں ہونے والے ایسے معمولی واقعات  جن کا نتیجہ بہت ہی غیرمعمو  لی تھا،بے شمار ہیں۔  سب سے اہم معمولی واقعہ بس مکڑی کا کمزور جالا تھا،  کتنا معمولی سا واقعہ! کھوجی کہتا ہی رہ گیا کہ اِسی غار میں ہیں وہ،جن کی تلاش ہے—مگر کیسے! مکڑی کا کمزور جالا ایک قوی دلیل بن کر آڑے آیا اور پھر معمولی سے واقعہ نے غیرمعمو  لی انسان کی غیرمعمو  لی حفاظت کا سامان پیدا کر دیا۔

یہی نہیں،ایک بار پھر—آپؐ کے خلاف سازش موجود ہے اور آپؐ سے درخواست بھی کی گئی کہ آپؐ سازشی کے گھر تشریف لائیں لیکن آپؐ نے اِتنا اہم فیصلہ  اُونٹنی کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ آپؐ تو معمولی باتوں کے راز جاننے والے تھے۔ اُونٹنی کا فیصلہ تو وہی ہونا تھا جو اللہ کا اَمر تھا۔

Pages: 1 2 3