ہم کسی ایک زمانے میں کسی آنے والے زمانے کے لیے، اپنے لیے ایک مقصد بناتے ہیں  تا کہ وہ آنے والا زمانہ آسانی سے گزرے، لیکن جب وہ زمانہ آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ جسے آنا تھا، وہ نہیں آیا ،بلکہ کچھ اور ہی آ گیا، یا وہ گزرا ہوا زمانہ جس میں ہم مقصد بنا رہے تھے، وہ اِس قابل ہی نہیں تھا کہ ہم نئے زمانے کو پرانے زمانے کی نگاہ سے سمجھ سکتے۔ اِس طرح مقصد کا حصول ایک بے معنی کھیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ اِس میں کوئی ابہام نہیں۔

 ہم دیکھتے ہیں کہ عین عالمِ شباب میں ایک آسان بڑھاپا گزارنے کے لیے ہم محفوظ ترین  راستہ یعنی سرکاری ملازمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ جب وہ بڑھاپا  آتا ہے تو ہمارے ساتھ ہونے والا سلوک وہ نہیں ہوتا جس کی توقع اور انتظار میں ہم نے جوانیاں گزاریں۔ ریٹائرمنٹ کادَور بس ہر لحاظ سے معزولی کا دَور ہوتاہے۔ سرکاری مکان سے ایسے نکال کر پھینک دیا جاتا ہے جیسے ہمارا اُس کے ساتھ کبھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ سرکاری نظام ایک سنگین ڈسپلن کے طور پر ہمیں کچل کر رکھ دیتا ہے۔ ہمارے اعضاء شل ہوچکے ہوتے ہیں۔ ہماری توانائیاں، رعنائیاں ختم ہو چکی ہوتی ہیں۔پنشن سے گزر نہیں ہوتی اور ہم ایک تنگ گلی سے گزر کر بند گلی کا شکار ہوجاتے ہیں۔نیا مکان بنا نہیں سکتے، پرانے میں رہ نہیں سکتے کیونکہ وہ سرکاری تھا۔ بچوں کے مسائل بدستور حل ہونے والے رہتے ہیں اور ہم سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ہم نے کیا مقصد بنایا تھا۔

ہم نے کیا سوچا تھا، ہم نے کیا پایا! وہ جو دُور سے خوبصورت نظرآ رہا  تھا، قریب سے اِتنابھیانک نکلا، جیسے ہمارا چاند —  دُور سے چاندنی دیتا ہے اور قریب جاؤ تو تاریک ہو جاتا ہے۔عجب بات ہے۔ ایسے جیسے سایہ دار درخت ہمیں دعوتِ سفر دیں اور جب دھوپ سَر پر آ جائے تو وہی درخت آنکھیں چُرا لیں اور اپنے پتے چھپا لیں۔ ہم نہ آگے جاسکتے ہیں،  نہ پیچھے۔اب مواقع نہیں ہوتے کہ ہم دوبارہ کوئی مقصد بنا لیں، دوبارہ کوئی نیاراستہ بنا لیں۔ بس اُمّیدیں  حسرتیں بن جاتی ہیں۔ سرکاری درجات ہمارے لیے ایک بے مقصد اور بے معنی لفظ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ہماری اَنا بدستور افسرانہ رہتی ہے اور ہمارے حالات غریبانہ۔ ہم خود کو بدستور عالی مرتبت سمجھتے ہیں لیکن مرتبے خواب ہو چکے ہوتے ہیں۔

  ہم مقصد پر بہت زور دیتے ہیں کہ زندگی کا ایک مقصد ہونا چاہیے، زندگی کا ایک مفہوم ہونا چاہیے اور زندگی کسی ٹارگٹ کی طرف رواں ہونی چاہیے، لیکن ٹارگٹ تک پہنچنا اور ٹارگٹ سے وہ سکون حاصل کرنا، جس کے لیے ٹارگٹ بنایا ہے، یہ ہمارے بس میں نہیں ہوتا۔ نتیجہ وہی پریشانی —  حیرانی!!

 ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنی بھی چاہیے۔ ہم انجینئر بننا چاہتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔ ہم اور بہت کچھ بننا چاہتے ہیں، لیکن جب ہم ایم بی بی ایس کر لیتے ہیں تو ہماری اُمّیدیں بہت وسیع ہوتی ہیں اور ہمارے لیے راستے بہت محدود۔یہ کیاغضب ہے کہ ایک ڈاکٹر سروس کی تلاش میں اُسی طرح سرگرداں پھرتا ہے جیسے انجینئر۔  کہنے والے کہتے ہیں کہ ڈگری لینا تو آسان ہے لیکن نوکری لینا بہت مشکل ہے۔ کہنے والے تو یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ نوکری کے لیے رشوت ضروری ہے، یعنی پیسہ کمانے کے لیے پیسہ لگانا بہت ضروری ہے اور جس آدمی کے پاس لگانے کے لیے پیسہ نہ ہو، اُسے مزید کمانے کا حق بھی نہیں، اور اِس طرح بے شمار ڈاکٹر نفسیاتی مریض ہو کر رہ جاتے ہیں۔ شہروں میں تعلیم حاصل کرنے والے ایسے گاؤں میں تعینات کر دیے جاتے ہیں (اور یہ تعیناتی ایک الگ داستان ہے)، جس گاؤں میں سڑک تک نہیں جاتی اور بعض جگہ تو بجلی بھی نہیں ہوتی۔ وہاں ائیر کنڈیشنر میں رہنے والے ڈاکٹر ہاتھ میں پنکھا لیے اپنے دیہاتی بھائیوں کی خدمت کے لیے بھیج دیے جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد اُن میں سے اکثر دماغی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ نوکری کے لیے سفارش ضروری ہے۔ غریب ڈاکٹر جس کے ماں باپ نے قرض لے کر اپنی اولاد کو پڑھایا ہو اور اُن کو ایم بی بی ایس کروایا ہو، وہ ایسی مشکل اور بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ بس خداکی پناہ! ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ایک نیا امتحان ضروری ہوتا ہے، یعنی پبلک سروس کمیشن — بس اِس کے بعد حاصل کیے ہوئے مقصد کی بے مقصدیت واضح ہونا شروع ہو جاتی ہے۔  فارسیاں بھول جاتی ہیں اور ایم بی بی ایس کا حصول بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہی نہیں، ہر پیشے میں کچھ ایسے ہی واقعات ہوتے ہیں۔ البتہ چند خوش قسمت یعنی خوش تعلق لوگ ایسے بھی ہیں جو کبھی ریٹائر ہی نہیں ہوتے۔ ہر بار اُن بے چاروں کو کوئی نہ کوئی معقول وجہ اپنی سروس جاری رکھنے پر مجبور کر دیتی ہے اور اُن کے لیے صرف حال ہی مستقبل کا زمانہ بن جاتا ہے۔ وہ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے —  بس اللہ کی مرضی!!

Pages: 1 2 3 4