انسان کامقصد اللہ کے بنائے ہوئے مقصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔اللہ فرماتے ہیں: ’’مَیں نے جِنّوں اور اِنسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا“— اور اگر ہم صرف عبادت میں مصروف ہو جائیں تو ہمارے پاس عبادت کے لیے بھی وسائل نہیں رہیں گے۔ وسائل حاصل کریں تب بھی مشکلات میں آ جائیں گے۔
صبح سے شام تک ہم دیکھتے ہیں کہ ہم کن راستوں سے گزرتے ہیں۔ صبح اکثر لوگ اخبار پڑھتے ہیں۔اِس میں دِین کی کو ئی بات نہیں۔ تلاوت کرنے والے زمانے اب پرانے زمانے ہو گئے۔ ہم مختلف ذرائع سے اپنے اپنے کاروبار تک جاتے ہیں۔ اِن ذرائع میں کوئی دینی حوالہ نہیں ہوتا، مثلاً کسی کی گاڑی خراب ہو تو وہ کسی مقامی خانقاہ میں نہیں جائے گا بلکہ مکینک کے پاس جائے گا۔ موٹر مکینک اسلام سے ناآشنا بھی ہوسکتا ہے — اور یہی نہیں، کاریں بنانے والے کافر بھی ہو سکتے ہیں، یہودی بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم یہودیوں کی گاڑی میں بسم اللہ پڑھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔بس اتنا ہی ہمارا اسلامی فرض ہے۔ ہم نے اِس سے آگے کبھی سوچا ہی نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس بھی یہودیوں کا بنا ہوا ا سلحہ ہے۔ اب ایسا اسلحہ لے کر اسلامی جہا د اور عالمی جہاد کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیا طاقت مقصدِ حیات ہے؟ طاقت تو پھر اور لوگوں کے پاس ہے۔دِین اور صرف دِین سے انسان کی ضروریات پوری ہونا ذرا مشکل سا نظر آتا ہے۔
دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان مبلغ کسی مسجد کے امام بنا دیے جاتے ہیں اور ایچی سن کالج کے فارغ التحصیل نوجوان عام طور پر انتظامیہ کے سربراہ بنا دیے جاتے ہیں۔ ایسا فرق؟ — اِس ملک میں—؟ کیسی بات!!کیا ایسا ممکن نہیں کہ شاہی مسجد کا امام گورنر بھی ہو، یا گورنرشاہی مسجد کی اِمامت کے فرائض ادا کرے۔ہم جس کا حکم مانیں، اُس کے پیچھے نماز بھی پڑھیں اور جو جتنا بڑا حاکم ہو، اُتنا بڑا مفتی بھی ہو — پھر بات بنتی ہے۔یعنی سربراہ کو دونوں لحاظ سے سربراہ ہونا چاہیے۔دُنیاوی اور دِینی دونوں طرح سے، اور اِس طرح مقصدِ تخلیقِ پاکستان آسانی سے واضح ہو سکتا ہے۔
ہمارا ذاتی مقصد ایک ذاتی زندگی کی آسودگی ہو سکتا ہے لیکن اجتماعی مقصد،ذاتی سفر کی کامیابی کے علاوہ ایک مِلّی سفر کے سر انجام دینے کا نام ہے۔ اگر ذاتی مقصد مِلّی مقصد سے متصادم ہو تو بھی بے معنی، اور دینی مقصد سے مختلف ہو تو بھی بے مقصد۔ لہٰذا مقصد تجویز کرنے والے بڑے فکر اور تدبر سے کام لیں کہ طالب علموں کے لیے ایک کامیاب زندگی کا حصول بھی ممکن ہو اور کامیاب قوم کا حصول بھی، ورنہ ذاتی کامیابیاں ہی اجتماعی ناکامی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ اگر ذاتی مقصد کا حصول یہی ہے کہ اِس ملک کو اپنے لیے استعمال کیا جائے تو وہ آدمی کہاں سے آئیں گے جواِس ملک کے لیے استعمال ہوں۔
پروفیشن ایک وبا ہے جو ملک کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہر آدمی الگ کامیاب ہے۔ لوگ مال جمع کرتے ہیں، گنتے رہتے ہیں اور اُن کے لیے ارشادِ باری تعالیٰ واضح ہے کہ یہ لوگ کہاں پہنچا دیے جائیں گے— ایک کھولتی ہوئی آگ—!
اگر ملک کو ایک درخت سمجھ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہر بامقصد انسان اپنی سہولت کے لیے اس کی ایک آدھ شاخ کاٹ لیتا ہے اور اب کوئی انسان نظر نہیں آتا جو اپنے آپ کو قربان کر کے اِس درخت کی خدمت کرے۔ جو شخص صرف مال اکٹھا کر رہا ہے، اُس کے لیے سکون کی دولت ناممکن کر دی جاتی ہے۔ ملک قربانیوں سے بنتے ہیں۔ ملک آسائش حاصل کرنے والوں کے ذریعے سے مضبوط نہیں ہوسکتا۔ ملکوں کی ترقی کے لیے مضبوط کردار، ایک بامقصد قوم اور ایک لگن درکار ہے، جس میں اللہ کے فرمان بھی پورے ہوں اور ہمیں اِس دُنیا کے معیار کے مطابق ترقی بھی حاصل ہو۔ ابھی وقت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم صرف بحث کرنے والی قوم بن کر رہ جائیں۔ سماج میں بے شمار برائیاں بیان کی جاتی ہیں لیکن کوئی شخص آگے بڑھ کر انہیں دُور کرنے کا اِرادہ تک بیان کرنے کو تیار نہیں ہے۔