کوئی شخص اپنی دولت سے اپنی خوشی کے ساتھ اپنے غریب بھائی کی مدد نہیں کر سکتا۔ ابھی تک کسی شخص نے اعلان نہیں کیا کہ وہ نہ کبھی رشوت لے گا اور نہ کبھی رشوت دے گا۔ ملک کی خدمت جلسے جلوس میں نہیں ہے۔ یہ مسلسل بیدار ی سے حاصل ہوتی ہے — مسلسل سوچ کے ساتھ اور قوم کو ایک وحدت میں پرونے کے ساتھ۔ جب تک وحدتِ کردار حاصل نہ ہو، وحدتِ مقصد حاصل نہیں ہو سکتی۔
خالی ترقی ایک ایسے جہاز کی طرح ہے جو پانی پر تیرتا ہے، ڈوبتا نہیں ہے — چل رہا ہے لیکن اُسے یہ معلوم نہیں ہے کہ جانا کہاں ہے؟ بے سمت ترقی اور بے جہت مسافرت، بےمعنی سفر ہے۔ مقصدکا انتخاب کرتے وقت صرف یہی نہیں دیکھنا کہ ہم پیسہ کیسے بنائیں گے بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اِس ملک کی کیسے خدمت کر سکتے ہیں اور اِس چند روزہ زندگی میں اپنے مالک کو کس طرح خوش رکھ سکتے ہیں۔ بس! ایسی زندگی گزارنی چاہیے کہ ہم بھی خوش رہیں، ملک کو بھی عروج حاصل ہو اور ہمارا اللہ بھی راضی رہے۔ یہی مقصد سب سے بہتر ہے۔